پی ڈی پی کے دورِ اقتدار میں ہوئے قبرستان آباد : ساگر؍ڈاکٹر کمال

By
6 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

موجودہ سرکار کشمیر دشمن سرکار ثابت، چار سال دور حکومت ظلم وستم اور جبر استبداد دور رہا

سری نگر:یکم،جون:/ نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری ایڈوکٹ حاجی علی محمد ساگر نے ر یاست کے دشمن مبینہ طور جموں وکشمیر کو خطوں، ذات پات اور مذاہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔کے این این کو بھیجے گئے بیان کے مطابق پارٹی ہیڈ کواٹر نواح صبح میں پارٹی لیڈران اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے ساگر نے کہا عوام کوتقسیمی عناصر کے ہتھکنڈوں سے خبردار کرتے ہوئے زو ر دیا کہ وہ اتحاد، اتفاق اور سماجی مساوات کی نیشنل کانفرنس کی پالیسی کو اختیار کریں۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور ریاست کے دشمن مبینہ طور اس ریاست کو خطوں، ذات پات اور مذاہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے زعماء کے خون اور پسینہ سے پارٹی کے مرحوم رہنما شیخ محمد عبد اللہ کی قیادت میں شخصی راج ، غلامی، تنگدستی، جاگیرداری، سودخوری، چکداری، بیگاری اور ناخواندگی سے آزادی حاصل کی گئی جسے آج مزید استحکام دینے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پارٹی کے پروگرام اور پالیسی کی وجہ سے ممکن ہوا کہ ریاست بھر میں مذہبی اور سماجی ہم آہنگی قائم رہی جس کے لئے شیخ محمد عبد اللہ اور ان کے ساتھیوں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے مقامی نوجوان نسل سے اپیل کی کہ وہ تعلیم کو نظر انداز نہ کریں کیونکہ روشن مستقبل کے لئے تعلیم لازم ہے۔ اِسی عوامی نمائندہ جماعت کو یہاں کے غریبوں ، مزدوروں ، نانگاروں ، کسانون ، کاری گروں اور ہنرمندوں کا تعاون رہا ہے جس کی بدولت اِس جماعت اور اِس کی عظیم لیڈر شپ کو عوام کی بہتری کیلئے کام کرنے کا موقعہ حاصل رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا ،کہ نیشنل کانفرنس نے ہی روزِ اول سے مسئلہ کشمیر کو پائیدار بنیادوں پر حل کیلئے ہندوستان اور پاکستان کی دوستی کی وکالت کی ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل اٹانومی ہے اور وفاقی آئین کی دفعہ 370میں اِس کو گارنٹی ملی ہوئی ہے۔ موجودہ حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی بھاجپا اتحاد نے عوام کو فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے نام پر دانے دانے کیلئے ترسیا، سیلاب زدگان کو بے یارو مددگار چوڑا، نوجوان مخالف پالیسیاں اختیار کیں اور ریاست کے اختیارات آر ایس ایس کو تفویض کردیئے۔پی ڈی پی نے بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرنے سے قبل یہاں کے عوام میں یہ تاثر پیدا کیا تھا کہ مرکزی خزانوں کا رُخ کشمیرکی طرف کیا جائے گا، بڑے بڑے اقتصادی ، سیاسی اور مالی پیکیج ملیں گے ، بجلی گھر واپس لئے جائیں گے لیکن پی ڈی پی والے مودی کے آشیرواد کے سوا اور کچھ نہیں لا پائے۔انہوں نے کہا کہ سابق نیشنل کانفرنس حکومت نے ریاست جموں وکشمیر کی تعمیر و ترقی کیلئے جتنا کام کیا اُس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ اس موقعہ پر پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال ، ایڈوکیٹ چودھری محمد رمضان ، صدر صوبہ ناصر اسلم وانی ، سابق وزیر سکینہ ایتو ، حاجی مبارک گل ، علی محمد ڈار، شمیمہ فردوس،محمد اکبر لون نے تنظیم کی صفوں کو مضبوط کرنے پر زور دیتے ہوئے پارٹی لیڈران ، عہدیداروں اور کارکنوں کو تاکید کی کہ وہ ہر صورت میں لوگوں کے ساتھ قریبی تال میل رکھ کر اُن کے مسائل اور مشکلات اجاگر کریں کرنے کیلئے کام کریں، جو اُن سب کا اخلاقی اور بنیادی فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مضبوطی ہی ہماری مضبوطی ہے اور پارٹی کی مضبوطی کا راز عوامی خدمت میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کرنا نیشنل کانفرنس کا شیوا رہاہے اور سرداری عوام کا حق ہے اور عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہے نیشنل کانفرنس کا اصول رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی موجودہ خاتون وزیر اعلیٰ بدقستمی سے تحریک کشمیر اور تاریخ کشمیر سے بلکل کورا ہے اور نہ ہی اس کے والد بزرگوار اور نہ ہی اس کے خاندان کو تحریک کشمیر اور تاریخ کشمیر کوئی رول رہا ہے بلکہ ہمیشہ کشمیریوں کے دشمن رہے ہیں اور شاطر سیاست دان بن کر کشمیریت کو نقصان پہنچایا اور ریاست کے کونے کونے میں مرحوم مفتی محمد سعید کے دور میں قبرستان اور گمنام قبرے آباد کئے ۔نوجوانوں کی نسل کشی کی گئی بستیوں کی بستیاں خاکستر کئے گئے ریاست میں افسپا لگایا گیا اور فوج کو کشمیریوں کو قتل عام کرنے کے لئے کھولی چھوٹ دی گئی اور مرحوم مفتی کا یہی نظریہ تھا کہ کشمیر کو کس طرح جہنم زار بنا یا جائے اور جگموہن سے مل کر کشمیر کو تباہی کے دھانے پہنچایا اور پھر اقتدار کے خاطر آر ایس ایس کی غلامی اختیار کر کے یہاں کی انفرادیت ، شناخت کو ختم کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں رکھی ۔

Share This Article