کہیں راشن گھاٹ خالی ، کہیں پانی کی عدم دستیابی ، کہیں بجلی کی نایابی کا لوگوں کو صارفین

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

نصف درجن سے زیادہ علاقوں کے لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے ، حکام ٹس سے مس نہیں

سرینگر/یکم جنوری /سی این آئی/ بجلی ، پانی اور راشن کی عدم دستیابی پر وادی کے نصف درجن علاقوںمیں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے جس کی وجہ سے شاہرائوں پر سینکڑوں گاڑیاں درماندہ ہو کر رہ گئی بیماروں ، مزدوروں ، تاجروں ، طلبہ و طالبات اور سرکاری ملازمین کو مشکلات کا سامنا کرناپڑاجبکہ وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف اور پکھر پورہ کے اکڈر و بیشتر راشن گھاٹ خالی لوگ سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے چلہ کلان کے آمد کے ساتھ ہی وادی کے اکثر و بیشتر علاقوںمیں بجلی ، پانی اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے ضمن میں تسلسل کے ساتھ اقدامات نہیں اٹھائے جار ہے ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں کے مشکلات میں گونا گوں اضافہ ہوتا جار ہا ہے۔ نمائندے کے مطابق چھورو ، چند کوٹ ، بلہ گام ، پتو کھاہ اور اس کے ملحقہ علاقوں کے لوگوں کی بڑی تعداد نے ڈپٹی کمشنر بارہ مولہ کے دفتر کے سامنے دھرنے پر بیٹھ گئے عوامی وفود نے ڈپٹی کمشنر کو اس بات سے آگاہ کیا کہ سرینگر مظفر آباد شاہراہ پر آباد ہونے کے باوجود ان علاقوں کو بنیادی سہولیات کے حوالے سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کے مطابق بجلی پانی کی عدم دستیابی اور طبی سہولیات کے فقدان کے باعث لوگوں کو گونا گوں مشکلات و مصائب برداشت کرنے پڑرہے ہیں۔ ادھر سہہ پورہ کنزر کے لوگوں نے بھی شکایت کی ہے کہ ان کے علاقے کا ٹرانسفارمر ایک ماہ پہلے بیکار ہو چکا ہے اور پی ڈی ڈی محکمہ کی جانب سے ٹرانسفارمر کو دوبار ہ اپنی جگہ پر نصب کرنے کے سلسلے میں اقدامات نہیں اٹھائے جار ہے ہیں جبکہ شمالی کشمیر کے جانورہ ، وارہ پورہ کے لوگوں نے بانڈی پورہ سوپور شاہراہ پر دھرنا دیا اور احتجاج کرنے والے الزام لگا رہے تھے کہ ان علاقوںمیں بجلی اور پینے کے پانی کی قلت نے لوگوں کو بے حال کر دیا ہے۔ موسم سرما کے ساتھ ہی وادی میں لوگوں کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرناپڑ رہا ہے جبکہ راشن گھاٹوں کے خالی ہونے کے باعث لوگوں کو غذائی اجناس حاصل کرنے میں بھی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ادھروسطی ضلع بڈگام کے چرارشریف اور پکھرپورہ کے اکثر وبیشتر راشن گھاٹ خالی ہونے کے سبب لوگ راشن کیلئے ترس رہے ہیں جبکہ پکھر پورہ کے اکثر صارفین نے شکایت کی ہے کہ انہیں نومبر مہینے کی راشن سے محروم رکھاگیا اور محکمہ امور صارفین کے آفیسر انہیں جھوٹی تسلی دے رہے ہیں تفصیلات کے مطابق چرار شریف اور ملحقہ دیہات کے لوگوں نے بتایا کہ ان کے راشن گھاٹوں پر غذائی اجناس کی عدم دستیابی کی وجہ سے علاقے کے لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہیںجبکہ پکھر پورہ میں لوگ ابھی تک نومبر کے مہینے کی راشن حاصل کر نے کے منتظر ہیں ۔

Share This Article