سرینگر: اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے کپوارہ شہری ہلاکت اور بنیادی سہولیات کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے پیر کو ایک احتجاجی ریلی نکالی ،جس دوران این سی لیڈران نے حکومت پر عوام کش پالیسیاں اپنانے کا الزام عائد کیا ۔پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ حکومت کی ناکامی کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑررہا ہے جبکہ عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، بجلی اور پینے کا صاف پانی نایاب ہے ۔
سٹی رپورٹر کے مطابق پولیس نے اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کی ریلی کو اُس وقت میونسپل پارک کے نزیک روک کر آگے جانے کی اجازت نہیں دی جب پارٹی کے لیڈران، عہدیداران اور کارکنان پی ڈی پی۔ بھاجپا حکومت مخالف احتجاج کرتے ہوئے لالچوک کی طرف پیش قدمی کررہے تھے۔
آئے روز ہلاکتوں، کرفیو، کریک ڈاﺅنوں، بندشوں، فورسز زیادتیوں، راشن ، پانی اور بجلی کی قلت اور چور درازے سے برتیوں کیخلاف نیشنل کانفرنس کی ایک احتجاجی ریلی پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس سے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کی قیادت میں برآمد ہوئی جبکہ پارٹی کے سینئر نائب صدر چودھری محمد رمضان اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے علاوہ کئی لیڈران ، عہدیداران ،بلاک صدور صاحبان، یوتھ اور خواتین ونگ کے عہدیداران کے علاوہ کارکنوں کی ایک بڑی جمعیت نے شرکت کی۔
ریلی میں شامل شرکاءپی ڈی پی کی سربراہی والی سرکار کیخلاف فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ریلی کے شرکا نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر ’محبوبہ تیری سرکار میں خون ہی خون ہے‘، ’محبوبہ تیری سرکار میں اندھیرا ہی اندھیرا ہے‘، ’محبوبہ تیری سرکار میں نہ پانی ، نہ بجلی ، نہ کھانڈ اورنہ تیل ہے‘، ’محبوبہ تیری سرکار میں ہر سو قتل عام ہے‘ اور مختلف قسم کی احتجاجی تحاریر درج تھیں۔اس کے علاوہ ریلی کے متعدد شرکار نے بجلی کی عدم دستیابی کیخلاف بطور احتجاج اپنے ہاتھوں میں لالٹین اٹھاکے رکھے تھے۔
احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ موجودہ حکومت ہر لحاظ سے ناکام ثابت ہوئی ہے جس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہناتھا کہ پی ڈی پی حکومت نے گذشتہ 3سال میں ظلم و ستم کے ریکارڈ مات کردیئے، آئے روز کرفیو اور بندشوں سے لوگوں کا جینا حرام ہوگیاہے، نمازوں پر پابندی اور مساجد پر تالے چڑھانا اب روز کا معمول بن گیا ہے،بے جا گرفتاریوں اور بلاوجہ پکڑ دھکڑ سے نوجوان پود عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت 2017کو پُرامن سال جتلانے کے بلند بانگ فریبی دعوے کررہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ 2017میں اب تک 59عام شہری پیلٹ اور گولیوں کی بینٹ چڑھے۔ انہوں نے کہا کہ کل ہی کپوارہ میں ایک بے گناہ ڈرائیور کو ہلاک کیا گیا جبکہ اس سے ایک روز قبل ہندوارہ میں ایک خاتون گولیوں کا نشانہ بنی، کیا یہی پی ڈی پی کا پُرامن سال ہے؟ اگر 59عام شہریوں کی ہلاکتوں کے باوجود پی ڈی پی کو 2017پُرامن محسوس ہوتا ہے تو کشمیری قوم کا خدا ہی حافظ ہے۔
انہوں نے کہا ’ اس وقت جموں وکشمیر پر دو سرکاریں کام چلا رہی ہیں، ایک ناگپور کی اور دوسری مقامی سرکار ہے البتہ ناگپور سرکار کے فیصلے زیادہ چلتے ہیں اور مقامی سرکار کے کم۔‘ ساگر نے کہا کہ ریاستی سرکار کے کام میں بھی بھاجپا کی منظوری کے بنا کچھ نہیں ہوتا۔
پارٹی کے سینئر نائب صدر چودھری محمد رمضان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری حکومت کے دوران ایک کروڑ صارفین کو سرکاری راشن گھاٹوں سے چاول، کھانڈ ، آٹا اور مٹی کا تیل فراہم ہوتا تھا لیکن موجودہ عوام دشمن پی ڈی پی سرکار نے فوڈ سیکورٹی بل اور مفتی محمد سعید راشن سکیم متعارف کرکے لوگوں کی پیٹ پر لات ماری۔ 60لاکھ کی آبادی کو اب مہنگے داموں راشن خریدنا پڑھتا ہے اور راشن گھاٹوں پر اب صرف چاول فراہم ہوتے ہیں، کھانڈ ، آٹا اور مٹی کا تیل نایاب ہے۔
پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ عام لوگوں کے مشکلات میں ہر روز ہورہے اضافے پر تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ڈی پی بھاجپا حکومت خواب غفلت میں پڑی ہے ،عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں، بجلی اور پینے کا صاف پانی نایاب ہے، راشن ، پانی ، بجلی اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی ہر گزرتے دن کے ساتھ بد سے بدتر ہورہی ہے جبکہ تعمیر و ترقی کے کاموں کی رفتار بھی ماند پڑگئی ہے۔ امسال میٹر والے علاقوں میں گاہ گاہ ہی بجلی کے درشن ہوتے ہیں جبکہ غیر میٹر شدہ علاقوں کا حال بہت برا ہے۔ کپوارہ کے لولاب کی مثال دیتے ہوئے ناصرا سلم وانی نے کہا کہ مذکورہ علاقے میں 24گھنٹوں میں صرف30منٹ بجلی کی فراہمی ہوتی ہے اور یہی حال پوری وادی کا ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کی ہر سو پانی کیلئے ہارہار کا مچی ہوئی ہے آئے روز لوگ سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کیلئے مجبور ہورہے ہیں۔ ایسا محسوس ہورہاہے کہ یہاں حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔
ریلی میں پارٹی کے سینئر لیڈران مبارک گل، پیر آفاق احمد، عرفان احمد شاہ، یوتھ صدر سلمان علی ساگر، مشتاق احمد گورو، ضلع صدور غلام محی الدین میر، ڈاکٹر محمد شفیع، حاجی عبدالاحد ڈار، صوبائی ترجمان عمران نبی ڈار، ایڈوکیٹ عباس،ڈاکٹر رفیق کوچک ، ایڈوکیٹ نذیر احمد ملک، میر غلام رسول ناز،صبیہ قادری ، احسان پردیسی، نیلوفر مسعود بھی شامل تھے۔

