پریس کالونی میں سماجی کارکن کا تن تنہا نصف شب تک خاموش دھرنا
اعجاز ڈار
سرینگر 27جنوری / کٹھوعہ میں 8سالہ لڑکی کے اغواء اور ہلاکت پر سرینگر میں ایک سماجی کارکن نے طویل خاموش احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ قتل میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ سنیچروار کی رات دیر گئے تک پریس کالونی سرینگر میں احتجاجی دھرنے پر بیٹھے نوجوان نے کہا کہ معصوم آصفہ بھی ہماری بہن تھی اور اس کو انصاف فراہم کیا جائے ۔ کے پی ایس کے مطابق سرینگر کے چھتہ بل علاقے سے تعلق رکھنے والا سمیع اللہ نامی نوجوان جو کہ پیشہ سے ایک آٹو ڈرائیور ہے نے کھٹوعہ میں 8سالہ معصوم بچی آصفہ کی اغوا ء کے بعد قتل کے خلاف سرینگر میں پریس کالونی میں سنیچروار کی صبح تن تنہا خاموش احتجاجی دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ آصفہ کے قاتلوں کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے تاکہ ان کے لواحقین کو انصاف ملے ۔ سمیع اللہ کے ہاتھ میں بینر تھا جس میں ’’بکروال بھی انسان ہیں ‘‘آصفہ کو انصاف فراہم کروں ‘‘ کے نعرے درج تھے ۔ سنیچروار کی رات دیر گئے کڑاکے کی ٹھنڈ میں پریس کالونی سرینگر میں سنیچروار کی رات دیر گئے تک احتجاجی دھرنے پر بیٹھے نوجوان کا کہنا تھا کہ آصفہ کے قاتلو ں کی جلد از جلد نشاندہی کرکے انکو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آصفہ کے لواحقین کو انصا ف فراہم ہو سکے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں ملوث افراد کو ایسی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کی شرمناک حرکت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ سکے ۔خیال رہے کہ جموں کے کھٹوعہ علاقے میں 10جنوری کو اس وقت احتجاجی مظاہروں کی لہر شروع ہوئی جب درد صفت نوجوان کے ہاتھوں 8سالہ معصوم اور کمسن آصفہ کی اغوا کاری کے بعد اسکو بے دردی کے ساتھ ہلاک کیا گیا تھا جس کے بعد ایوان اسمبلی میں بھی معاملہ اٹھنے کے بعد اس معاملے کی مکمل تحقیقات کیلئے کیس کو سی بی آئی کے سپرد کیا گیا ۔

