سرینگر :کشمیر کے سوپور قصبے میں6 جنوری 1993 کی صبح ہر کام معمول کے مطابق ہو رہاتھا۔ دوکاندار اپنے کاروبارمیں میں مشغول تھے۔ سڑکیں گاڑیوں کی آمد ورفت سے چہک رہی تھیں۔ معمول کے مطابق دفاتر اور تجارتی مراکز میں کام کاج ہو رہا تھا۔ لیکن پھر اچانک چند گھنٹوں بعد ہی پورا قصبہ لرز اٹھا۔
یہ وہ المناک دن ہے جب ایپل ٹاو¿ن سوپور میں 57عام شہریوں کو ہلاک کیا گیا، 400 گھروں اور دوکانوں کو جلا دیا۔ اس کا الزام وہاں پر تعینات سکیورٹی فورسز پر ہے۔ہر برس کی طرح آج کے روز بھی پوری وادی کشمیر میں 6جنوری 1993 کو پیش آنے والے اس انسانیت سوز اور المناک واقعے کو یاد کیا جا رہا ہے۔
سوپور قتل عام کے کہانی کچھ یوں ہے کہ اس موقع پر وادی کے عسکریت پسندوں نے باڈر سکیورٹی فورسز کی ایک گشت کرنے والی پارٹی پر حملہ کیا جس میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گ?ا تھا۔ اس واقعے میں ایک جنگجو نے بی ایس ایف کے ایک جوان سے بندوق بھی چھین لی تھی۔الزام ہے کہ اس واقعے کے کچھ دیر بعد ہی بی ایس ایف کی 94 بٹالین نے اپنے رد عمل میں 57عام شہریوں کو گولیوں سے بھون دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق فوجیوں نے ایس آر ٹی سی کے ایک بس ڈرائیور کو گاڑی سے گسھیٹ کر گولی مار دی اور بس میں سوار مسافروں پر گولیوں کی بوچھاڑ کر کر دی جس کے نتیجے میں 20عام شہری ہلاک ہوئے۔
فوج پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ مسافروں کے خلاف اس کارروائی کے بعد مکانوں اور دکانوں پر گن پاو¿ڈر چھڑک کر آگ لگادی۔ اس طرح کی بھی اطلاعات ہیں کہ بعض دوکانوں کے شٹر گرا کر ان کے مالکان کو انھیں دکانوں میں زندہ جلادیا گیا۔
ہلاک ہونے والے کل 57 عام شہریوں میں سے 48 افراد کو گولیوں کا نشانہ بنا یا گیا تھا جبکہ دیگر 9 افراد کو زندہ جلا نے کی بات کہی گئی۔ قصبے کے پانچ گاو¿ں (آرم پورہ، مسلم پیر، کرال ٹنگ، شالہپورہ اور بوبیمیر صاحب) میں 400سے زائد مکانوں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ بی ایس ایف اور جنگجوو¿ں کے درمیان ہونے والے تصادم کی وجہ سے اتنی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے مطابق عسکیرت پسندوں کے پاس موجود دھماکہ خیز مواد کے پٹھنے سے ایک مکان میں آگ لگی جو دیگر مکانوں تک پھیلتی چلی گئی۔
لیکن دباو کی وجہ سے حکومت نے اس واقعے کی عدالتی انکوائری کا حکم دیا اور بی ایس ایف افسران کو معطل کر دیا گیا۔اس کے خلاف وادی میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا اور ہزاروں کشمیریوں نے حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں اور کرفیو کو نظر انداز کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرے کیے۔
اس وقت کے وزیر اعظم نرسمہا راو¿ نے ریاستی گورنر گریش سکسینا کو سوپور کا دورہ کرنے کا حکم دیا تھا اور ہلاک شدہ افراد کے اہل خانہ کو ایک ایک لاکھ روپیے بطور معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا۔

