کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری :حریت(ع)

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
All Parties Hurriyat Conference (APHC) Chairman Mirwaiz Moulvi Umar Farooq addresses a gathering prior to prayers marking the festival of Eid al-Adha at the Grand Mosque Jamia Masjid in Srinagar. --

سرینگر:۱۰،جولائی : حریت کانفرنس (ع) نے کہا کہ ایک منصوبہ بند پروگرام کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں تعینات فوج اور فورسز خود کو حاصل غیر معمولی اختیارات کے بل پر کشمیریوں کو اپنا حق، حق خودارادیت طلب کرنے کی پاداش میں مظالم و تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے ۔کے این این کو موسولہ بیان کے مطابق حریت کانفرنس (ع)نے وادی کے مختلف علاقوں میں فورسز کی بربریت اور جارحیت کے نتیجے میں دونہتے نوجوانوں عبید منظور سکونت نادی ہل رفیع آباد،تمثیل احمد خان ساکن ہیل شوپیاں جبکہ ایک عسکری معرکے کے دوران دو عسکریت پسندوں کو جاں بحق کئے جانے اور 50 کے قریب افرادکو شدید زخمی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک منصوبہ بند پروگرام کے تحت کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اور کشمیر میں تعینات فوج اور فورسز خود کو حاصل غیر معمولی اختیارات کے بل پر کشمیریوں کو اپنا حق، حق خودارادیت طلب کرنے کی پاداش میں مظالم و تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے ۔بیان میں کہا گیاکہ پورے کشمیر میں خوف و دہشت کا ماحول برپا کیا گیا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ایک عسکریت پسند کا والد محمد اسحاق نائیکو ساکن کنڈلن شوپیاں اپنے بیٹے کی موت کی خبر سن کرجاں بحق ہو گیا جو حد درجہ تشویشناک اور ایک المیہ ہے۔بیان میں جنوبی کشمیر میں عوام کیخلاف فوج کی جانب سے بلا اعلان جنگ چھیڑ دیئے جانے کو ایک خطرناک صورتحال سے تعبیر کرتے ہوئے کہا گیا کہ کشمیر میں عملاً فوج کی حکمرانی ہے اور یہ لوگ کسی جواب دہی کے عمل سے بالاترہوکر نہتے عوام کوپشت بہ دیوار کرنے کے کسی بھی جارحانہ عمل سے گریز نہیں کررہے ہیں۔بیان میں سرکاری فورسز کے ہاتھوں شہید کئے گئے متذکرہ افراد کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک جائز جدوجہد میں مصروف عوام کو آئے روز ایک نہ دوسرے بہانے مختلف نوعیت کے تشدد کا شکار بنایا جارہا ہے اور ان کی زندگی کا ناطقہ تنگ کردیا گیا ہے ۔بیان میں حریت پسند قائدین اور عوام کیخلاف حکومتی سطح پر جاری معاندانہ کارروائیوں ، گرفتاریوں اور مظالم کیخلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں پابند سلاسل کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرح کے ہتھکنڈے ایک جائز جدوجہد میں مصروف قیادت اور عوام کے حوصلوں کو نہ تو ماضی میں شکست دینے میں کامیاب ہوسکے ہیں اور نہ اب کے اس طرح کے حربوں سے یہاں کے عوام کو اپنی جائز جدوجہد سے دستبردار کیا جاسکتا ہے۔

Share This Article