کانگریس کا رام مادھو کے بیان پر ردِ عمل

قانون ساز اسمبلی کو معطل رکھنا قابل عمل نہیں

سری نگر:٨،جولائی :/ کانگریس پارٹی نے بھاجپا کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو کے اُس بیان جس میں اُنہوں کہا تھا کہ بھاجپا ریاست میں نئی سرکار کی تشکیل میں کوئی دلچسپی نہیں بلکہ وہ گور نر راج سے مطمئن ہے ،پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں کہا کہ قانون ساز اسمبلی کو معطل رکھنا کے کیا معنی یا منطق ہے ۔کے این این کو کانگریس کے ریاستی ترجمان کی جانب سے بھیجے گئے بیان کے مطابق ریاستی گور نر کو اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں کی جانب سے ’ہارس ٹریڈنگ ‘کی کوششوں پر کڑی نگاہ رکھنی چاہئے ۔ان کا کہناتھا کہ جموں وکشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے کئی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں جبکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عنقریب حکومت تشکیل دی جائیگی ،جوکہ ممکن نہیں ،لہٰذا موجودہ صورتحال میں قانون ساز اسمبلی کو تحلیل کرنے سے ہی قیاس آرائیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے گور نر این این ووہرا سے اپیل کی کہ وہ قانون ساز اسمبلی کو تحلیل کریں اور قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کے علاوہ ہارس ٹریڈنگ کی کوششوں کو بھی قبل از وقت ہی ناکام بنا یا جائے ۔کانگریس ترجمان نے سوالیہ انداز میں کہا کہ رام مادھو کے بیان کے کیا معنیٰ ہے ،وہ کیوں ریاست میں گور نر راج کے نفاذ پر مطمئن ہے ۔ان کا کہناتھا کہ جب رام مادھو یہ کہتے ہیں کہ بھاجپا کو نئی حکومت سازی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ،تو قانون ساز اسمبلی کو تحلیل کیوں کیا جاتا ؟۔کانگریس نے الزام عائد کیا کہ لوک سبھا انتخابات2019کے پیش نظر بھاجپا ایک خطرناک کھیل ،کھیل رہی ہے ۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کہ وہ جمہوریت کے تحفظ کیلئے کانگریس کو تعائون دیں تاکہ بی جے پی کے خطرناک عزائم کوناکام بنایا جاسکے۔کانگریس ترجمان نے کہا کہ اگر قانون ساز اسمبلی تحلیل نہیں کی جاتی ،خدشہ ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے پی ڈی پی کے باغی ممبران اسمبلی کے ساتھ بھاجپا کے ساتھ نئی سرکار تشکیل نہ دے ،جو کہ جمہوریت کیلئے بڑا دھچکہ ہو گا۔کانگریس ترجمان نے کہا کہ گور نر انتظامیہ کو رام مادھو کے بیان کولیکر قانون سا ز اسمبلی تحلیل کی جانی چاہئے ۔

Share This Article