پیپلز کانفرنس کے چیئرمین کی پارٹی کے خصوصی ہنگامی اجلاس کی صدرات

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور فوجیوں کی تعیناتی سے وادی کشمیر میں خوفناک صورتحال پیدا – عبدالغنی وکیل

آرٹیکل 35-A، آرٹیکل 370 مقدس ہیں، کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ ناقابل برداشت اور ناقابل قبول – عمران انصاری

سرینگر، 24 فروری، 2019: پیپلز کانفرنس نے اتوار کو کہا کہ بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور فوجیوں کی تعیناتی نے وادی کشمیر میں ایک خوفناک صورتحال پیدا کر رکھا ہے اور اس نے گورنر انتظامیہ اور حکومت ہند سے وادی میں پھیلے خوف اور تشویش کے احساس کو ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔

اتوار کو سرینگر میں پیپلیز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون کی صدارت میں منعقد ہونے والے پارٹی کی قیادت کے خصوصی ہنگامی اجلاس کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے جنرل سکریٹری مولوی عمران رضا انصاری نے کہا کہ پارٹی کی چوٹی کے اجتماع نے ریاست میں بے امنی، خوف اور خدشات کے چھائے ماحول پر سخت تشویش کا اظہار کیا، اور انہوں نے مرکزی حکومت اور گورنر انتظامیہ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ماحول صاف کریں اور ریاست میں منتشر قیاس آرائیوں کو ختم کریں۔ پارٹی کے سینئر نائب صدر نے کہا کہ پارٹی کی چوٹی کے اجتماع نے اس بات پر بھی آگاہی ظاہر کی کہ مختلف سرکاری محکموں کے جاری کردہ چند احکامات کی وجہ سے افراتفری میں کس قدر اضافہ ہوا ہے، جس سے لوگ متنبہ اور خوفزدہ ہیں۔

پارٹی کے جنرل سکریٹری مولوی عمران رضا انصاری نے مزید کہا کہ پارٹی نے اس بات پہ بھی زور دیا ہے کہ آرٹیکل 35-A اور آرٹیکل 370 دونوں مقدس دفعات ہیں اور ریاست کی خصوصی حیثیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کسی بھی قسم کی کوشش ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہوگی۔ پیپلز کانفرنس نے نہ صرف یہ کہ ریاست کی خصوصی حیثیت کو مزید ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لئے لڑنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا بلکہ ریاست کو اس کی اصل حیثیت پر بحال کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا۔

وادی کشمیر میں جاری صورتحال پر حکومت ہند سے وضاحت طلب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر نائب صدر عبدالغنی وکیل نے کہا کہ کشمیر میں تقریبا 10،000 اضافی فوجیوں کی تعیناتی کے بعد وادی میں پائی جانے والی غیر یقینی کی صورتحال پر حکومت کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ حالیہ تعیناتی نے بڑی پریشانی اور مصیبت پیدا کر رکھی ہے، لوگ خود اپنے گھروں میں غیر محفوظ اور خوفزدہ محسوس کرتے ہیں۔ کچھ حکومتی محکموں کے جاری کردہ احکامات نے لوگوں کے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے جس سے غیر یقینی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ حکام کو چاہیے کہ وہ تازہ تعیناتی کے پیچھے وجوہات کی وضاحت کریں اور لوگوں کو اندھیرے میں نہ رکھیں۔

کشمیر میں بڑے پیمانے ہونے والی حالیہ گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے اور اسے ایک پریشان کن رجحان قرار دیتے ہوئے وکیل نے کہا کہ جماعت اسلامی اور جمعیت اہل حدیث کے عملے کے خلاف پولیس کے کریک ڈاؤن نے تشویش کے احساس میں اضافہ کیا ہے نیز اس سے یہ قیاس آرائی مزید پختہ ہو گئی ہے کہ حکومت کشمیری مفادات کے خلاف موقف اختیار کرنے والی ہے۔ حکومت ہند کو لازمی طور سے وادی میں موجود خوف اور تشویش کے احساس کو ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔

Share This Article