دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ’اگر ہمارے تعاون کو سراہا نہ گیا تو ہم اس پر نظرِثانی کر سکتے ہیں۔‘
ایک ٹویٹ میں ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں سب سے زیادہ حصہ لیا اور قربانیاں دیں۔ اور ہمارے ہاں دنیا میں سب سے زیادہ انسدادِ دہشت گردی آپریشن کیے گئے۔‘
منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل سفیر نکی ہیلی نے اسلام آباد پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ڈبل گیم کھیلنے کا الزام عائد کیا اور امداد روکنے کی تصدیق کی۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکی ’انتظامیہ 225 ملین امریکی ڈالرز کی پاکستان کو امداد روک رہی ہے۔ اس کی واضح وجوہات ہیں کہ پاکستان نے کئی برسوں سے ڈبل گیم کھیلی ہے۔‘
نکی ہیلی کے اس بیان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں اربوں ڈالر کی امداد لینے کے باوجود پاکستان نے امریکہ کو سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا ہے۔
منگل کو ہی وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے پریس بریفنگ میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی روکنے کے لیے مزید اقدامات کر سکتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ ایسا کریں۔ یہ سادہ سی بات ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جہاں تک (امریکہ کی جانب سے) مخصوص اقدامات کی بات ہے۔ آپ آئندہ 24 سے 48 گھنٹے میں مزید تفصیلات سامنے آتی دیکھیں گے۔‘
امریکی صدر کی جانب سے پاکستان مخالف بیان بازی پر پاکستان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے امریکہ اور پاکستان کو مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ منفی بیان بازی سے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
امریکی صدر کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منگل کو اسلام آباد میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ خارجہ، وزیرِ داخلہ، وزیرِ دفاع، مسلح افواج کے سربراہان سمیت اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔
خرم دستگیر نے بتایا کہ قومی سلامتی کے اس اجلاس میں طے پایا ہے کہ ‘مل کر اور تعاون سے افغانستان میں امن کی جدوجہد کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے تو ہمیں بہتر کامیابی ہوگی، بجائے یہ کہ ہم اپنی منفی بیان بازی سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کریں۔’
