پاکستان دہشت گردی سمیت تمام اہم معاملات پر مذاکرات کیلئے تیار تھا تاہم بھارت نے منہ موڈ لیا /ڈاکٹر فیصل

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
ہالینڈ کے سفیر کی ملک بدری کا فیصلہ نہیں کیا گیا، ڈاکٹر محمد فیصل فوٹو:فائل

بھارتی آرمی چیف کو سوچ کر بولنے کی ضرورت ،کشمیر میں جارحیت پر او آئی سی کی مذمت کا خیر مقدم

سرینگر/22نومبر: بھارتی آرمی چیف کو سوچ کر بولنے کی ضرورت ہے تاہم ایسا بھارت کی طرف سے نظر نہیں آرہاہے کی بات کرتے ہوئے پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو انڈین اوشین نیول سمپوزیم میں جان بوجھ کر شرکت کی دعوت نہیں دی تاہم پاکستان نے بھارت کو دہشت گردی سمیت تمام اہم معاملات پر مذاکرات کی دعوت دی ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران پاکستانی ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل کا کہنا تھا کہ طاہر داوڑ کے حوالے سے افغانستان نے کوئی معلومات نہیں دی، اس حوالے سے پاکستان میں تحقیقات جاری ہیں۔ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان نے ٹرمپ کے بیان کے بعد ریکارڈ کی تصحیح کے لیے ٹویٹ کیے، پاکستان نے القاعدہ دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے امریکا کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کیا۔ افغان طالبان سے امریکا کے براہ راست روابط سے آگاہ ہیں، جس کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ اجمل قصاب کے ڈومیسائل کا معاملہ میڈیا پر دیکھا ہے، بھارتی آرمی چیف کے بیان پر اتنا کہتے ہیں کہ سوچ کر بولنے کی ضرورت ہے تاہم ایسا بھارت کی طرف سے نظر نہیں آرہا، بھارت نے پاکستان کو انڈین اوشین نیول سمپوزیم میں جان بوجھ کر شرکت کی دعوت نہیں دی تاہم پاکستان نے بھارت کو دہشت گردی سمیت تمام اہم معاملات پر مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے بیان کو مسترد کرتا ہے، بھارت اپنے داخلی مسائل میں پاکستان کا نام لیکر الیکشن میں فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے جب کہ کرتار پور پر اچھی خبر جلد سنائیں گے۔پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی مذمت کرتے ہیں جب کہ یمن ثالثی کا معاملہ انتہائی حساس ہے تاہم اس پر پیش رفت ہوئی ہے۔دورہ ملائیشیا سے متعلق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ملائیشیا کے وزیراعظم کی دعوت پر دورہ کیا، دونوں ممالک کیدرمیان تعلقات کیفروغ اور باہمی تجارت پر بات چیت ہوئی۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں پر بھی اتفاق ہوا۔ پاکستان کشمیر میں حالیہ بھارتی جارحیت کی مذمت کرتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جارحیت پر او آئی سی کی مذمت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

Share This Article