2مقامی جنگجو پلوامہ ،کولگام میں سپرد لحد ،جلوسِ جنازوں میں لوگوں کا اژدھام،انٹر نیٹ وریل سروس بند
پلوامہ ،کولگام:۶،جون:کے این این / ’ٹنگڈار معرکہ آرائی میں جاں بحق جنگجوؤں کی قبر کشائی ‘کے بعد مہلوک جنگجوؤں مدثر احمد اور شیرازاحمد کی میتوں کو اپنے اپنے آبائی دیہات میں تدفین عمل میں لائی گئی ،جس دوران مرحومین کے جلوسِ جنازوں میں ہزاروں لوگوں کا اژدھام اُمڑ آیا ۔اس دوران جنوبی کشمیر کے 2اضلاع پلوامہ اور کولگام میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر تیز رفتار مو بائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع کردی گئیں جبکہ ریل سروس بھی معطل کی گئی ۔دریں اثناء جنوبی ضلع پلوامہ کے کئی علاقوں میں مسلسل چوتھے روز بھی ہڑتال سے معمول کی سرگرمیاں متاثر رہیں جبکہ کئی مقامات پرمظاہرین اور فورسز اہلکاروں کے درمیان پُر تشدد جھڑپیں بھی ہوئیں۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق حد متارکہ کے ٹنگڈار سیکٹر میں گذشتہ ماہ 3 نامعلوم ساتھیوں سمیت جاں بحق کئے گئے جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے2جنگجووں کی نعشیں بالآخر منگل کو انکے لواحقین کے حوالے کئے جانے کے بعدبدھ کو ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں اپنے اپنے آبائی قبرستانوں میں دفن کی گئیں۔دونوں جاں بحق جنگجوؤں کے جلوسِ جنازوں میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔موصولہ اطلاعات کے مطابق مدثر احمد پاریگام کولگام ساکن اور شیراز احمدساکن لاجورہ پلوامہ ،جو اپنے 3 نامعلوم ساتھیوں سمیت گذشتہ ماہ ایل او سی کے ٹنگڈار سیکٹر میں فوج کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران جاں بحق ہوئے تھے،کے جلوسِ ہائے جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جو ’’اسلام،آزادی،پاکستان اور جنگجووں‘‘کے حق میں اور مقامی و مرکزی سیاستدان پارٹیوں اور شخصیات کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔دونوں کی کئی کئی بار نمازِ جنازہ پڑھی گئی جسکے بعد انہیں انتہائی جذباتی ماحول میں اپنے قبرستانوں میں سپر دِ لحد کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو شیراز احمد کے جلوسِ جنازہ سے مزاحمتی لیڈر سید علی گیلانی،جو اب برسوں سے سرینگر کے حیدرپورہ میں اپنی رہائش گاہ کے اندر نظربند ہیں،نے ٹیلی فون کے ذریعہ خطاب کیا ۔انہوں نے جاں بحق جنگجوؤں نوجوانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔انہوں نے کہا’ہمارے نوجوان ایک مقدس مقصد کیلئے اپنی زندگیاں قربان کررہے ہیں اور ہم اپنا مقصد پانے تک جدوجہد جاری رکھیں گے‘۔یاد رہے کہ فوج نے 26مئی کو ایل او سی کے ٹنگڈار سیکٹر میں دراندازی کی ایک کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 5 غیر مقامی عدم شناخت جنگجووں کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم سوشل میڈیا پر مہلوک جنگجوؤں کی تصا ویر وائرل ہونے کے بعد کولگام اور پلوامہ کے دو خاندانوں نے اپنے ’’لاپتہ‘‘بیٹوں کی شناخت کی اور پھر انہیں لاشیں سونپ دئے جانے کا مطالبہ کیا جنہیں فوج نے اپنے طور جائے واردات کے قریب ہی دفن کروایا تھا۔ان خاندانوں کے لوگ کئی دنوں تک ٹنگڈار میں رہے جہاں انہوں نے پولس اور دیگر متعلقہ حکام سے لاشوں کا مطالبہ کیا جبکہ منگل کو انکے رشتہ داروں نے سرینگر کی پریس کالونی،جہاں بیشتر میڈیا گھرانوں کے دفاتر واقع ہیں،میں آکر انہیں انکے رشتہ داروں کی نعشیں سونپ دئے جانے کا مطالبہ کیا تاکہ وہ انکی آخری رسومات پورا کرکے انہیں اپنے آبائی قبرستانوں میں دفن کریں۔چناچہ دس دن بعد ان دونوں کی نعشیں ٹنگڈار میں قبروں سے نکال کر لواحقین کے سپرد کی گئیں۔معلوم ہوا ہے کہ دس دن قبروں میں رہنے کے باوجود دونوں نعشیں تازہ لگ رہی تھیں۔اس دوران جنوبی کشمیر کے 2اضلاع پلوامہ اور کولگام میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر تیز رفتار مو بائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع کردی گئیں جبکہ ریل سروس بھی معطل کی گئی ۔دریں اثناء جنوبی ضلع پلوامہ کے کئی علاقوں میں مسلسل چوتھے روز بھی ہڑتال سے معمول کی سرگرمیاں متاثر رہیں۔معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ میں بدھ کو مسلسل چوتھے روز بھی ہڑتال جاری ہے جبکہ کہیں کہیں احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے مابین معمولی جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ مشتعل مظاہرین نے فورسز پر پتھراؤ کیا جبکہ جوابی کارروائی میں فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کے ساتھ ساتھ مرچی گیس کا بھی استعمال کیا۔یاد رہے کہ ٹنگڈار میں2 مقامی جنگجووں کے جاں بحق ہونے کا انکشاف ہونے کے بعد ہی پلوامہ میں ہڑتال ہوگئی تھی اور لوگ نعشوں کا مطالبہ کررہے تھے۔چناچہ بدھ کو بھی یہاں اور کولگام کے کئی علاقوں میں معمول کی سرگرمیاں متاثر اور دکانات وغیرہ بند رہیں جبکہ یہاں سے گذرنے والی بارہمولہ۔بانہال ریل سروس کو بھی بند کردیا گیا ہے۔شمالی ریلوے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پولس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ہدایت پر انہوں نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سروس بند کردی ہے۔جنوبی کشمیر میں انٹرنیٹ کی سروس بھی بند کردی گئی ہے جسے انتظامیہ نے افواہ بازی کو روکنے کیلئے ایک ’’احتیاطی اقدام‘‘قرار دیا ہے۔

