قصبہ پلوامہ میں تشدد بھڑک ،پتھراؤ ،جوابی پتھراؤ اور ٹیر گیس شلنگ ،کئی مضروب
پلوامہ ،کولگام:۵جون:کے این این / جنوبی ضلع پلوامہ میں مسلسل تیسرے روز بھی ہڑتال رہی جس دوران نوجوانوں نے قصبہ میں ٹنگڈار جھڑپ میں جاں بحق ہوئے جنگجو نوجوان کی نعش اُنکے سپرد کرنے کے حق میں مظاہرے کئے ۔ادھر کولگام سے تعلق ایک مبینہ جاں بحق جنگجو کے لواحقین اور رشتہ داروں نے الزام عائد کی کہ میت دینے میں انتظامیہ تاخیر کررہی ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورکے مطابق جنوبی قصبہ پلوامہ میں منگل کے روز مسلسل تیسرے روز بھی معمول کی سرگرمیاں بری طرح سے متاثر رہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں نے مسلسل تیسرے روز بھی مانگ کی کہ ٹنگڈار میں جاں بحق ہوئے جنگجو نوجوان کی میت اُنکے سپرد کی جائے ۔اس دوران قصبہ میں تشدد بھی بھڑک اٹھا ۔معلوم ہوا ہے کہ وشہ بگ ،ڈانگر پورہ چوک اور مرن چوک میں منگل کی صبح جب دکانات کھلنی شروع ہوگئیں ،تو یہاں تشدد بھڑک اٹھا ۔معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں کی ٹولیاں مختلف مقامات پر نمودار ہوئیں ،جس دوران انہوں نے فورسز اہلکاروں پر پتھراؤ کرنا شروع کردیا جسکی وجہ سے قصبہ میں افراتفری پھیل گئی اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے جبکہ قصبہ میں آناً فاناً دوبارہ دکانات بند ہوگئیں ۔اس دوران فورسز اہلکاروں نے مشتعل نوجوانوں کو تتربتر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی ،جسکے ساتھ طرفین کے مابین شدید نوعیت کی جھڑپیں شروع ہوئیں اور یہ سلسلہ وقفے وقفے سے کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔معلوم ہوا ہے کہ پتھراؤ ،جوابی پتھراؤ اور ٹیر گیس شلنگ میں کئی اہلکاروں سمیت متعدد افراد مضروب ہوئے ۔پتھراؤ اور ٹیر گیس شلنگ کے نتیجے میں قصبہ میں صورتحال انتہائی کشیدہ بنی ہوئی تھی ۔معلوم ہوا ہے کہ نوجوان شیراز احمد شیخ ساکنہ لاجورہ پلوامہ نامی جنگجو کی میت لواحقین کے سپرد کرنے کی مانگ کررہے ہیں ۔یاد رہے کہ شیراز کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ 25مئی کو وہ ٹنگڈار سیکٹر میں معرکہ آرائی میں مبینہ طور پر جاں بحق ہوا ہے ۔فوج نے دعویٰ کیا تھا اس روز ایل او سی پر جھڑپ کے دوران5غیر مقامی جنگجو در اندازی کے دوران جا ں بحق ہوئے ۔بعد میں لالجورہ پلوامہ اور پری گام کولگام کے دو کنبوں نے دعویٰ کیا کہ جھڑپ میں اُنکے دو بچے جاں بحق ہوئے ہیں ۔اس دوران مرکزی اوقاف کمیٹی لاجورہ پلوامہ نے میٹنگ طلب کی جس میں مطالبہ کیا کہ شیز از احمد شیخ کی میت اُنکے سپرد کی جائے ۔ادھر کولگام کے رہنے والے دوسرے جنگجو نوجوان کے لواحقین نے بھی مطالبہ کیاہے کہ جاں بحق جنگجو کی میت اُنکے سپرد کی جائے ۔تصاویر کے ذریعے2جاں بحق جنگجوؤں کے اہلخانہ اور رشتہ داروں نے اُنکی شناخت کی تھی اور الزام عائد کیا کہ جنگجو نوجوانوں کی نعشیں آخری رسومات انجام دینے کیلئے انتظامیہ تاخیر کررہی ہے ۔مد ثر احمد بٹ کے بھائی شبیر احمد بٹ نے بتایا کہ اُنکے اہلخانہ اتوار کو ٹنگڈار پہنچے ۔انہوں نے کہا ’پولیس اسٹیشن ٹنگڈار میں ہمیں دوبارہ تصاویر دکھا ئی گئیں ،جن میں ایک اُسکے بھائی مدثر کی ہے ‘۔اسی طرح کے شیراز احمد شیخ کے قریبی رشتہ محمد یعقوب شیخ نے تصاویر کر اُسکی شناخت کی تھی ۔دونوں کنبوں نے جنگجونوجوانوں کی میتیں اُنکے سپرد کردی جائیں ۔دونوں کنبوں نے کہا کہ اتوار سے انتظامیہ سے رابطے میں ہیں کہ اُنکے بچوں کی نعشیں اُنکے سپرد کردی جائیں ،جنہیں نامعلوم جنگجو ؤں کے کھاتے میں ڈال کر شمالی کشمیر میں کہیں سپرد خاک کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نعشوں کی قبر کشائی کرنے کے عمل میں تاخیر کی جارہی ہے ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا مہلو ک جنگجو ؤں کی میتیں دینے میں تاخیر کیوں ہورہی ہے؟۔انہوں نے انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ جاں بحق جنگجوؤں کی میتیں اُنکے سپرد کرنے کے عمل میں تیزی لائی جائے ،تاکہ اُنکی تدفین صحیح طریقے سے انجام دی جاسکے ۔دونوں جنگجو نوجوانوں کے لواحقین کے مطابق پلوامہ میں امن وقانون کی صورتحال میں بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جتنی جلدی اہلخانہ کے سپرد نعشیں کی جاتی ہے ،وہی ہم سب کیلئے اچھا ہے ۔ان کا کہناتھا کہ کو لگام اورپلوامہ سے ٹنگڈار 250کلو میٹر دور ہے اور ہمارے لئے یہ ممکن نہیں کہ ہم روزانہ سفر کریں نہ ہی ہم ماہ رمضان کے پیش نظر وہاں رُک سکتے ہیں ۔ایس ایس ایس کپوارہ اے ایس ڈی نے بتایا کہ اس حوالے سے ’ایس او پی ‘ یعنی باضابط اخلاق موجود ہے جس پر چلنا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈی این اے شناخت کے عمل میں وقت لگتا ہے اور جب تک ڈی این اے کی شناخت مکمل نہیں ہوتی قبر کشائی نہیں کی جاسکتی ۔انہوں نے کہا یہ معاملہ صرف قبر کشائی کا نہیں ہے بلکہ دیگر لوازمات بھی ہیں ،جن کو پُر کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے طرف سے کافی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ یہ عمل جلد از جلد مکمل ہوسکے ۔25مئی کو 20جاٹ کی فوجی یونٹ نے ٹنگڈار کپوارہ میں در اندازی کی ناکام بناتے ہوئے 5جنگجوؤں کو جاں بحق کرنے کا دعویٰ کیا تھا ۔
ٹنگڈار جھڑپ:مہلو ک جنگجوؤں کی میتیں دینے میں تاخیر کیوں ؟لواحقین

