نادر قرآنی مخطوطات اور فن پاروں کی نمائش اختتام پذیر

سرینگر:۱۱،جون:/ٍٍٍٍ پانچ روز تک جاری رہنے والی نادر قرآنی مخطوطات اور فن پاروں کی نمائش آج اس عہد کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی کہ اس انمول میراث کی حفاظت اور دیکھ ریکھ کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے۔کے این این کے مطابق اس نمائش کا ہزاروں افراد نے بڑی دلچسپی کے ساتھ مشاہدہ کیا جن میں طالبِ علموں کی اچھی خاصی تعداد موجودد تھی۔ نمائش کے اختتامی روز ہزاروں شایقین نے نمائش میں رکھے گئے مخطوطات اور فنی نوادر کا مشاہدہ کیا۔ نمائش کے پہلو بہ پہلو ٹی آر سی کمپلیکس میں ایک حمدیہ ، نعتیہ مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ جس کی صدارت معروف شاعرہ پروفیسر نسیم شفائی نے کی۔ جبکہ منشور بانہالی اور شوکت انصاری بھی ایوانِ صدارت میں موجود تھے۔مشاعرے میں جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا اُن میں پروفیسر نسیم شفائی، منشور بانہالی، شوکت انصاری، نثار گلزار، غلام رسول جوش، اظہر ہاشمی، فاروق بخاری، خورشیدقریشی، نعیم کشمیری، غلام قادر عطار، امین اشرف، ڈاکٹر شاہد حُسین، محترمہ نصرت اقبال، سید بشیر کوثر، مقبول شیدا، عبدالمجید حسرت، سید وقار دانش، غلام نبی شاہین، منظور منظر، فرحت ناز اور واحد احمد ملک قابلِ ذکر ہیں۔مشاعرے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر سید افتخار احمد نے انجام دئے۔شُکریہ کی تحریک چیف ایڈیٹر اردو محمد اشرف ٹاک نے پیش کی۔رمضان سپیشل پروگرام کے سلسلے میں اکیڈیمی نے آج گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول کوٹھی باغ میں مسابقہ60 حُسنِ نعت کا بھی اہتمام کیا تھا جس میں مختلف سکولوں سے وابستہ طلباء نے حصہ لیا۔

Share This Article