رمضان جنگ بندی جزوقتی خیرسگالی اقدام
نئی دہلی مزاحمتی لیڈروں کیساتھ بھی مذاکرات کیلئے تیار
سری نگر:۵،جون:کے این این / حکمران جماعت بی جے پی نے’’رمضان سیزفائرکوجزوقتی خیرسگالی اقدام‘‘قراردیتے ہوئے خبردارکیاہے کہ ملی ٹنسی برقراررہتی ہے تواس فیصلے پرنظرثانی کی جائیگی۔بھاجپاکے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھونے کہاکہ مرکزی سرکارنے کشمیرمیں سبھی پارٹیوں کیساتھ مذاکرات کی پہل کی ہے اوریہ کہ نئی دہلی مزاحمتی لیڈروں کیساتھ بھی مذاکرات کیلئے تیارہے۔کے این این مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کے مجوزہ 2روزہ دورہ کشمیرکے موقعہ پرمرکزمیں برسراقتدارجماعت بھارتیہ جنتاپارٹی کے قومی جنرل سیکرٹری اورجموں وکشمیرمیں پی ڈی پی ،بی جے پی مخلوط سرکارکی تشکیل میں کلیدی رول اداکرنے والے لیڈررام مادھونے ایک نجی نیوزچینل کیساتھ بات کرتے ہوئے کہاہے کہ مرکزی سرکارنے جموں وکشمیرمیں ماہ رمضان کے پیش نظربطورخیرسگالی اقدام سیزفائرکافیصلہ لیا۔انہوں نے کہاکہ سیزفائرکافیصلہ اس نیت سے لیاگیاتاکہ جموں وکشمیربالخصوص وادی کے مسلمانوں کوماہ صیام کے دوران جنگجومخالف آپریشنوں کی وجہ سے کسی بھی قسم کے مشکلات یاپریشانیوں کاسامنانہ کرناپڑے۔رام مادھوکاکہناتھاکہ مرکزی سرکارنے جموں وکشمیرکے حوالے سے دواہم اقدامات اُٹھائے جن کے تحت مرکزنے مذاکرات کی پیشکش کی ،اوراسکے بعدرمضان سیزفائرکافیصلہ لیاگیا۔بھاجپاکے قومی جنر ل سیکرٹری نے نجی نیوزچینل کوبتایاکہ مرکزنے سیزفائرکافیصلہ خلوص نیت سے لیاتاکہ کشمیرمیں قیام امن کی کوششوں کوتقویت مل سکے تاہم رام مادھونے واضح کیاکہ اگرملی ٹنسی رقراررہی اورجنگجوگروپ اپنے حملوں سے بازنہ آئے تومرکز سرکاررمضان سیزفائرکے جزوقتی خیرسگالی اقدام پرنظرثانی رمجبورہوجائیگی ۔انہوں نے کہاکہ سیزفائرمیں اُسی صورت میں توسیع ہوگی ،اگرجنگجوئیانہ کارروائیوں میں روک لگ جائیگی ۔بھاجپاجنرل سیکرٹری کاکہناتھاکہ ماہ رمضان سے پہلے سیکورٹی ایجنسیوں نے جنگجوؤں کیخلاف سخت پالیسی اپنارکھی تھی ،اوراسی پالیسی کے نتیجے میں گزشتہ اڑھائی برسوں کے دورا ن کشمیرمیں 600جنگجومارے گئے ۔انہوں نے کہاکہ ماہ رمضان کے پیش نظرمرکزی سرکارنے تمام سیکورٹی ایجنسیوں کوکشمیرمیں ایک ماہ کیلئے جنگجومخالف کارروائیاں معطل رکھنے کی ہدایت دی ،اوررمضان سیزفائرلاگوکیاگیا۔رام مادھونے پھرکہاکہ اگروادی میں سیکورٹی صورتحال جوں کی توں رہی اورجنگجوسرگرمیاں جاری رہیں تورمضان سیزفائرفیصلے پرنظرثانی ناگزیربن جائیگی ۔بھاجپاکے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھونے کہاکہ مرکزی سرکارنے کشمیرمیں سبھی پارٹیوں کیساتھ مذاکرات کی پہل کی ہے اوریہ کہ نئی دہلی مزاحمتی لیڈروں کیساتھ بھی مذاکرات کیلئے تیارہے۔انہوں نے کہاکہ مرکزنے اپنی جانب سے مذاکراتی عمل کوآگے بڑھانے کی پہل کی ہے ،اوراب یہ کشمیری علیحدگی پسندلیڈروں پرمنحصرہے کہ وہ کیافیصلہ لیتے ہیں ۔خیال رہے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ رواں ماہ کی 7تاریخ یعنی بروزجمعرات کودوروزہ دورے پرسری نگرپہنچیں گے ،اوریہاں قیام کے دوران راجناتھ سنگھ حکومتی اورسیول وسیکورٹی ذمہ داروں کیساتھ الگ الگ میٹنگیں کرکے رمضان جنگ بندی میں توسیع اورمذاکراتی عمل کوآگے بڑھانے کی پالیسی کابھی تفصیلی جائزہ لیں گے ۔
ملی ٹنسی برقراررہتی ہے توسیزفائرفیصلے پرنظرثانی کی جائیگی :رام مادھو





