ملی ٹنسی اور خشت باری سے نمٹنے کی نئی حکمت عملی

سی آر پی ایف کی پہرہ گاہیں اب ہونگی بلٹ پروف موبائیل بینکر وں میں تبدیل

سری نگر:۶،جون: / اسلحہ چھینے اور گرینیڈ دھماکوں کے واقعات میں آئی تیزی کے بیچ ملی ٹسی اور خشت باری سے نمٹنے کی نئی حکمت عملی کے تحت وادی کشمیر میں تعینات مرکزی فورسز (سی آر پی ایف ) کی پہرہ گاہیں اب بلٹ پروف موبائیل بینکروں میں تبدیل ہوررہی ہے ۔اِن بلٹ پروف موبائیل بینکروں کو حسا س علاقوں اور فورسز کیمپوں میں نگرانی کیلئے نصب کیا جائیگا ۔ سی آر پی ایف حکام کا کہنا ہے کہ جوانوں کو جانی نقصان سے بچانے کیلئے اس طرح کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق وادی کشمیر میں گوریلا طرز کی عسکریت اور جنگجویانہ حملوں میں آئی تیزی کے بیچ سینٹر ریزیو پولیس فورس (سی آر پی ایف )نے ایک نئی حکمت عملی مرتب کی ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ شمال وجنوب میں ہتھیار چھینے ،گرینیڈ حملوں میں آئی تیزی کے ساتھ ساتھ پتھر باری سے نمٹنے کیلئے جہاں فورسز اہلکاروں کو جدید اسلحے اور آلات سے لیس کیا جارہا ہے ،وہیں اُن بلٹ پروف موبائیل بینکروں کو حساس علاقوں اور کیمپوں میں نصب کیا جارہا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ شہر سرینگر کو حکومت کی جانب سے ’بینکر فری ‘ بنانے کے منصوبے کے تحت جہاں درجنوں بینکروں کو ہٹایا گیا ہے ،وہیں ملی ٹنسی اور پتھراؤ کے واقعات سے بچنے کیلئے سی آر پی ایف نے نئی حکمت عملی ترتیب دی ہے ۔سی آر پی ایف حکام نے بتایا کہ ملی ٹنسی اور خشت باری سے نمٹنے کیلئے نئی حکمت عملی ترتیب دی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ اس حکمت عملی کے تحت بینکر ہٹانے کے بعد فورسز کو متبادل انتظامات فراہم کرنے کیلئے جدید طرز کے موبائیل بینکر نصب کئے جارہے ہیں ۔حکام کا کہنا ہے کہ کئی جگہوں سے اگرچہ بینکر ہٹانے کا عمل روک دیا گیا ،تاہم سی آر پی ایف کیلئے وزارت دفاع نے خاص طور پر بلٹ پروف بینکر تیار کرائے ہیں ۔حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے پر 10کے قریب بلٹ پروف بینکر فراہم کئے گئے جنہیں آزمائشی بنیادوں پر حساس ترین علاقوں اور کیمپوں میں نصب کئے جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ یہ بلٹ پروف بینکر خاص طور پر گھنٹوں ڈیوٹی دینے والے جوانوں کیلئے تیار کئے گئے ہیں ۔سی آر پی ایف حکام کا کہنا ہے کہ اس بلٹ پروف بینکر میں فورسز اہلکار آرام کے ساتھ اپنی ڈیوٹی انجام دے سکتے ہیں کیو نکہ اِ ن میں با ضابط طور پر ائر کنڈشنرس نصب کئے گئے ۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف سرینگر میں سی آر پی ایف کی22بٹالینیں تعینات ہیں ۔سی آر پی ایف حکام نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے کے علاوہ گرینیڈ اور فائرنگ سے بچنے کیلئے اِن بینکروں کو نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔یہاں یہ بات کا قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں شہر سرینگر سمیت شمال وجنوب میں اسلحہ چھینے ،گرینیڈ دھماکوں میں آئی تیزی کے نتیجے میں فورسز اہلکاروں کو جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔شہر سرینگر سرینگر میں پے درپے گرینیڈ دھماکوں کے باعث کئی فورسز اہلکار زخمی ہوئے جبکہ کولگام میں منی سیول سیکریٹریٹ کے مرکزی گیٹ پر تعینات سی آر پی ایف اہلکار پر حملہ آؤروں نے کلہاڑی سے حملہ کرکے ہتھیار چھینے کی کوشش کی تھی ،تاہم مزاحمت کے دوران سی آر پی ایف اہلکار شدید زخمی ہوا تھا ۔

Share This Article