ملکی سالمیت کیلئے خطرہ بننے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہو گی ،کون کیا کہتا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا / منوج سنہا

By
1 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں /20اگست

لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے اتوار کو کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کون کیا کہے، ہندوستانی آئین یوٹی انتظامیہ کو ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے جو قومی سالمیت کو خطرہ ہیں اور جنہوں نے دہشت گردی کی حمایت کی ہے

جموں سے گرین جموں و کشمیر مہم شروع کرنے کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کیا کہتا ہے۔ ہندوستانی آئین میں اس کے معماروں جیسے بی آر امبیڈکر اور دیگر کے ذریعہ رکھی گئی ایک شق ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ”ان لوگوں کے خلاف سختی سے کام لیں جو ریاست / ملک کی سالمیت اور خودمختاری کو خطرہ بناتے ہیں“۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ نے ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے دہشت گردی، اس کے ماحولیاتی نظام کی حمایت کی ہے اور غیر قانونی طریقوں سے سرکاری ملازمتوں کا لطف اٹھایا ہے۔ لہذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون کیا کہتا ہے

Share This Article