مزاحمتی قیادت کی کال پر پوری وادی میں ہو کا عالم ،شہر خاص اور پلوامہ میں امتناعی احکامات نافذ رہے

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر؍16 دسمبر:مزاحمتی قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتا ل کی کال کے باعث پوری وادی میں ہو کا عالم رہا۔ شہر خاص کے پانچ پولیس اسٹیشنوں اور پلوامہ قصبہ میں امتناعی احکامات نافذ رہے۔ سرکاری عہدیدار کے مطابق کسی بھی جگہ سے ناخوشگوار واقعے رونما ہونے کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔ جے کے این ایس کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے ہڑتال کے روز ہڑتال کرنے کی کال کے باعث پوری وادی میں سیول کرفیو جیسے مناظر دیکھنے کوملے۔ نمائندے کے مطابق پلوامہ ضلع کو فوجی چھاونی میں تبدیل کیا گیا تاہم اس کے باوجود بھی لوگ سرنو پلوامہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے جہاں پر جاں بحق نوجوانوں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت پُرسی کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔ معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ ، شوپیاں اور کولگام اضلاع میں چپے چپے پر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا جس دوران پتھراو کے واقعات بھی پیش آئے۔ شہر خاص کے پانچ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں امتناعی احکامات نافذ کئے گئے تھے اور کسی کو بھی گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ جامع مسجد نوہٹہ اور اُس کے ملحقہ علاقوں میں سخت ترین کرفیو نافذ کیا گیا تھا اور پوری جامع مسجد کو کھار دار تار سے سیل کیا گیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کو روکنے کیلئے شہر خاص کے نوہٹہ ، خانیار ، رعناواری ، صفا کدل اور مہاراج گنج پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو نافذ کیا تھا۔ شمالی کشمیر سے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ وہاں پر بھی جگہ جگہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا تاہم لوگوں کے چلنے پھرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی۔ حاجن ، سمبل ، نائد کھائی ، مارکنڈل ، سوپور اور بارہ مولہ میں بھی ہڑتال کا خاصہ اثر دیکھنے کو ملا۔ وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف ، پکھر پورہ تحاصل میں بھی سخت ہڑتال سے معمول کی زندگی متاثر رہی۔ وسطی ضلع گاندربل میں جزوی ہڑتال رہی۔ ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ مجموعی طورپر وادی میں حالات معمول پر ہی رہی۔

Share This Article