فلسطینوں اور کشمیریوں کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا:پاکستان

File Photo

نیو یارک:قیام امن کےلئے مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حل کو ناگزیر قرار دےتے ہوئے پاکستان نے کہا ہے کہ فلسطین اورکشمیر کے عوام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں پرعملدرآمد کی ضرورت ہے جبکہ عالمی برادری تنازعات کے حل کی بجائے تماشا دیکھ رہی ہے۔

مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ فلسطین اورکشمیر کے عوام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں پرعملدرآمد کی ضرورت ہے جبکہ عالمی برادری تنازعات کے حل کی بجائے تماشا دیکھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ امریکی صدرکے فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں تناو¿بڑھے گا اس لیے امریکا مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق فیصلہ واپس لے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل میں عالمی امن و سلامتی کو چیلنجز پر مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اورکشمیر کے عوام انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں پرعملدرآمد کی ضرورت ہے۔

ان کا کہناتھا کہ عالمی برادری تنازعات کے حل کی بجائے تماشا دیکھ رہی ہے جب کہ بیرونی قبضے، سیاسی و معاشی نا انصافیوں، غربت کے خاتمہ کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے خطاب میں کہا کہ کشمیراورفلسطین کے عوام انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شکارہیں۔ان کا کہناتھا کہ افواج کشمیراورفلسطین میں مسلسل ظلم وجبرکررہی ہیں، کشمیراورفلسطین اقوام متحدہ کے چارٹرپرحل طلب مسئلے ہیں، امن کےلئے فوری حل طلب مسائل پرتوجہ دینا ضروری ہے، یہ مسائل اب حل ہونا چاہئیں جب کہ سلامتی کونسل کی تمام قراردادوں پربلاامتیازعملدرآمد کیا جائے۔

ملیحہ لودھی نے خطاب میں کہا کہ افریقہ سے افغانستان تک تنازعات عالمی امن و استحکام کیلئے خطرہ ہیں، شام، لیبیا اوریمن میں خانہ جنگی سے انسانی انخلاءبڑھ رہا ہے، عالمی امن و استحکام کیلئے فوجی کارروائیوں کے بجائے سیاسی حل تلاش کئے جائیں جب کہ یروشلم کی حیثیت میں تبدیلی پہلے سے افراتفری کا شکار خطے کے مسائل کوبڑھائے گی۔

ملیحہ لودھی نے اپنے خطاب بیت المقدس سے متعلق امریکی صدر کے فیصلے پرکہا کہ امریکی صدرکے فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں تناو¿بڑھے گا، اس لیے امریکا مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق فیصلہ واپس لے۔

واضح رہے کہ امریکا کے بیت المقدس سے متعلق فیصلے کے بعد دنیا بھرمیں احتجاج تاحال جاری ہے جب کہ اس متعلق اقوام متحدہ کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں اوآئی سی کا سفارت گروپ قرارداد پیش کرے گا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے