طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پرعلمائ، دانشوراور وکلاءکا شدید احتجاج

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

ممبئی:طلاق ثلاثہ کے خلاف مرکزی حکومت کے ذریعہ نیا قانون تشکیل دینے کے لئے پارلیمنٹ میں بل پیش کیے جانے سے پیدا شدہ صورتحال کاجا ئزہ لینے کے لیے منعقد کیے گئے ایک اجلاس میں علماءکرام، دانشوران اور مسلم وکلاءمذکورہ مسئلہ پر شدید احتجاج کے ساتھ ساتھ معاشرہ میں بیداری بھی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا ہے کہ ارباب اقتدار کو یہ باور کرانے کے لیے شریعت میں مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور کسی طرح کے قانون کو تشکیل دینے سے قبل حکومت مسلمانوں کے رہنما¶ں کو اعتماد میں لے ۔

اس موقع پر سابق ایم ایل اے اور سیوا نامی تنظیم کے روح رواں ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے کہاکہ میٹنگ میں اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ مذکورہ قانون کے خلاف مسلمان متحدہوجائیں اور یکجہتی واتحاد کامظاہرہ کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کوواضح کردیں کہ اسلامی شریعت میں مداخلت نہ کی جائے اور اس سلسلہ میں مسلمانوں کواعتماد میں لیاجائے ۔جبکہ جگہ جگہ اجلاس منعقد کیے جائیں اور ایک پُرزور مظاہرہ بھی کیاجائے ،سڑکوں پر نکل کر پُرامن احتجاج بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ مسلمان بلا خوف وخطر موجودہ حکومت کے فیصلہ خلاف کھل کر سامنے آئیں اور پّرامن احتجاج کی ضرورت ہے ۔اور یہ سب جامع وٹھوس انداز میں کرنا ہوگا تاکہ ارباب اقتدار کو ہوش کے ناخن لینے پر مجبور کیا جاسکے ۔

گزشتہ شب جنوبی ممبئی میں واقع اسلام جمخانہ میں پیر طریقت حضرت معین میاں کی سربراہی میں منعقد جلسہ میں رضااکیڈمی صدر سعید نوری، مولانا سید اطہرعلی، سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی، سابق اقلیتی کمیشن چیئرمین نسیم صدیقی، ایڈوکیٹ قاضی مہتاب حسینی،ایڈوکیٹ مبین سولکر ،ایڈوکیٹ وہاب، سرفراز آرزو، جاوید جمال الدین اور دیگر معززین نے شرکت کی۔مسلم پرنسل لاءبورڈ کے رکن سیّد اطہر علی نے کہاکہ ہمیں مذکورہ قانون کے سلسلہ میں اپوزیشن پارٹیوں اور برسراقتدار پارٹی سے رابطہ کرکے راہ ہموار کی جائے ۔جبکہ ایڈوکیٹ مبین سولکر نے کہاکہ ہمیں سلیکٹ کمیٹی کے ارکان اور دیگر لیڈران سے رجوع کرنا چاہیے ۔کیونکہ انہیں اس بات کو بہتر انداز میں پیش کرنا ہوگا کہ اگر شوہر کو تین سال کی سزا ہوجاتی ہے تو بیوی اور بچوں کوخرچ اور پرورش کون کرے گا۔

اقلیتی کمیشن چیئرمین نسیم صدیقی نے طلاق ثلاثہ کے معاملہ میں ایک واضح پالیسی اختیار کرنا ہوگی کیونکہ تیس سال قبل شاہ بانو کیس کے بعد صورت حال کو بہتر کرنے اور معاشرہ میں تین طلاق سے ہونے والی دشواری کے بارے میں کوئی وضع عمل نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں موجودہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ایڈوکیٹ قاضی مہتاب نے کہا کہ ہندوخواتین کے طلاق کے ہزاروں معاملات فیملی کورٹ میں زیرسماعت ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ،ہمیں ایک بہتر راہ ہموارکرنا چاہیے اور سلیکٹ کمیٹی میں طلاق بل بھیجے جانے کے بعد بھی خاموش نہیں رہنا چاہیے ۔اس موقع پر فیصلہ کیا گیاہے کہ مسلم محلوں میں بیداری مہم شروع کی جائے اور لاکھوں کی تعداد میں سڑک پر پُراحتجاج کیا جائے ۔یو این آئی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے