سرینگر// شہر خاص کے گوجوارہ چوک میںدوران شب آگ کی ایک ہولناک واردات کے دوران وقف بورڈ کی ایک عمارت میں قائم قریب دو درجن دکانیں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے جبکہ بیشتر دکانوں میں موجود سارا سامان بھی خاکستر ہوا جس کے نتیجے میں مجموعی طورکروڑوں روپے کی املاک تباہ ہوئی۔
سٹی رپورٹر کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب قریب دو بجکر10منٹ پراندرون سرینگر کے گوجوارہ چوک میں اُس وقت سنسنی پھیل گئی ایک تجارتی عمارت سے اچانک آگ کے شعلے بلند ہوئے ۔مقامی لوگوں کے مطابق آگ غالباً بجلی شاٹ سرکٹ کی وجہ سے نمودار ہوئی جس نے آناً فاناً پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اس موقعے پر پورے علاقے میںاتھل پتھل مچ گئی اور لوگ گھروں سے باہرآکر آگ بجھانے کی کارروائی میں جٹ گئے ۔یہ دو منزلہ عمارت وقف بورڈ کی جائیداد ہے جس کی دونوں منزلوں میں قریب24دکانیں ہیں۔مقامی لوگوں کو جب تک آگ ظاہر ہونے کاعلم ہوا ، تب تک اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پرتباہی مچ چکی تھی اور پوری عمارت آگ کے بھیانک شعلوں میں لپٹی ہوئی تھی۔اس موقعہ پر کئی خواتین اور دکانداروں کو واویلا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم اور فائر بریگیڈ کا عملہ جائے واردات پر پہنچ گیا اور بچاﺅ کارروائی شروع کی۔تاہم اس سے قبل پوری عمارت مکمل طور آگ کی لپیٹ میں آچکی تھی اور دوسری منزل کی دکانوں میں موجود سارا سامان بھی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا تھا۔
عینی شاہدین کے مطابق عمارت کی دوسری منزل مکمل طور خاکستر ہوئی جبکہ پہلی منزل میں قائم درجن بھر دکانوں کو آگ کے ساتھ ساتھ پانی کی بوچھاڑ سے بھی شدید نقصان پہنچا۔جو دکانیں جل کر خاکستر ہوئیں، ان میں ملبوسات، کریانہ، کاسمیٹک، فرنشنگ، ادویات، کمپیوٹر، آئس کریم، ٹیلر ماسٹر وغیرہ کی دکانیں ہیں۔محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سب سے پہلے فائر اسٹیشن رعناواری کا عملہ اور آگ بجھانے والی گاڑیاں جائے واردات پر پہنچی اور اس کارروائی میں مجموعی طور شہر کے9مختلف فائر اسٹیشنوں سے وابستہ19فائر انجنوں اور ٹینڈررس کے ساتھ ساتھ درجنوں اہلکاروںنے حصہ لیا۔انہوں نے کہا کہ اگر مقامی لوگ آگ پر قابو پانے کی کارروائی میں معاونت نہیں کرتے تو وسیع پیمانے پر تباہی کا احتمال تھا۔
محکمہ کے ایک اور آفیسر نے بتایا کہ اس واردات میں مجموعی طور پرکروڑوں روپے کی املاک خاکستر ہوگئی اور نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرلیا ہے اور مزید چھان بین جاری ہے۔جمعہ کی صبح علاقے میں ماتم کا ماحول تھا اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے متاثرہ دکانداروں کے ساتھ یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔

