سرینگر / محبوس چیئر مین شبیر احمد شاہ کوتہار جیل کے اندر قید تنہائی میں منتقل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جموں کشمیر فریڈم پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ اگر علیل مزاحمتی قائد کو کسی قسم کی گزند پہنچی تو اُس کی ساری ذمہ داریحکومت ہند پر عائد ہوگی کیونکہ عدالتی احکامات کے باوجود شبیر شاہ کو کسی معتبر اسپتال کے اندر داخل نہیں کیا جارہا ہے تاکہ ان کا مناسب اور ضروری علاج ہوسکے۔ ایک بیان کے مطابق شبیر احمد شاہ کو انتہائی خرابی صحت کی حالت میں ہی تہار جیل کی سیل نمبر 7سے سیل نمبر1میں منتقل کیا گیا ہے جہاں اُن کے عارضوں میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے ، اُن کی صحت خطر ناک حد تک بگڑ گئی ہے اور اُنہیں خدا کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے،انہیں فوری طور پر ایمز جیسے کسی معیاری اسپتال کے اندر علاج و معالجہ کی اشد ضرورت ہے اور اس میں مزید تاخیر ہوئی تو اُن کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔بیان کے مطابق شبیر احمد شاہ،جو محض اپنی مبنی بر حق سیاست کی وجہ سے حکومت ہند کے عتاب کا شکار ہیں، کشمیر تنازعہ کو یہاں کے لوگوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی خاطر سیاسی جد و جہد کررہے ہیں اور صرف اسی گناہ کی پاداش میں بھارت کی عدلیہ اور وہاں کا میڈیا اُنہیں تعصب کی عینک سے دیکھتا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ شبیر احمد شاہ کی بگڑتی صحت اور مسلسل اسیری کی وجہ سے محبوس لیڈر کے گھروالے،اُن کی پارٹی کے کارکنان اور چاہنے والوں کی ایک بے شمار تعداد انتہائی فکر و تشویش میں مبتلاءہوگئے ہیں۔بیان کے مطابق جموں کشمیر فریڈم پارٹی متعلقہ عالمی اداروں اور بھارتی سیول سوسائٹی سے ملتمس ہے کہ وہ ”ضمیر کے قیدی“ کو جیل کے اندر مناسب طبی امداد بہم پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرے اور اس کیلئے حکومت ہند پر دباﺅ ڈالے۔فریڈم پارٹی ایک بار پھر اپنے محبوس قائد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس پالیسی کا اعادہ کرتی ہے کہ نفرت اور ظلم کی سیاست سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے، اگر جنوب ایشیائی خطے کے اندر امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے تو اس کیلئے تنازعہ کشمیر کو یہاں کے عوام کی مرضی کے مطابق حل کیا جانا ایک ضروری شرط ہے۔

