سیز فائر کی مدت ختم :کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کا عمل دوبارہ شروع

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
File Picture

بجبہاڑہ میں جنگجو مخالف آپریشن ،تلاشی کارروائی ،پلوامہ میں گرفتاریاں

بجبہاڑہ،پلوامہ:۱۸،جون:کے این این/ حکومت ہند کی جانب سے سیز فائر کی مدت میں توسیع نہ کرنے کے فیصلے کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں فوج وفورسز نے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن کا عمل دوبارہ شروع کردیا ،جس دوران جنوبی کشمیر کے بجبہاڑہ میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کے دوران گھر گھر تلاشی کارروائی عمل میں لائی گئی ،تاہم اس دوران جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا ۔ادھر اطلاعات کے مطابق شادی مرگ پلوامہ میں 3نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے،جس پر یہاں ہڑتال کی گئی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق کشمیر وادی میں سیز فائر کی مدت ختم ہونے اور حکومت ہند کی جانب سے اس میں توسیع نہ کرنے کے فیصلے کے ساتھ ہی فوج وفورسز نے جنگجو مخالف آپریشنز کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا ۔اطلاعات کے مطابق سیز فائر کے خاتمے پر پہلا کارڈن اینڈ سرچ آپریشن کا عمل پیر کے روز جنوبی ضلع اننت ناگ کے قصبہ بجبہاڑہ میں عمل میں لایا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ3آر آر ،ایس او جی اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے وگہامہ بجبہاڑہ نامی گاؤں کو پیر کی صبح اپنے محاصر ے میں لیا اور یہاں جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔معلوم ہوا ہے کہ فوج وفورسز نے مشترکہ گاؤں میں تلاشی کارروائیاں عمل میں لائی ۔گاؤں کے تمام داخلے اور خارجی راستوں کو سیل کیا گیا اور گھر گھر تلاشی کارروائی عمل میں لائی ۔معلوم ہوا ہے کہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ،تاہم اس دوران علاقے میں جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فوج وفورسز نے گاؤں میں جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر تلاشی کارروائی عمل میں لائی ،تاہم یہ تلاشی کارروائی پرامن طور پر اپنے اختتام کو پہنچ گئی ۔ادھر سٹی رپورٹر کے مطابق سرینگر میں جگہ جگہ پولیس وفورسز نے مشترکہ طور پر ناکے لگائے جس دوران گاڑیوں اور مسافروں کی تلاشی لی گئی ۔یہ سلسلہ وقفے وقفے سے دن بھر جاری رہا ۔یاد رہے کہ جمعرات کو پریس کالونی سرینگر میں نامعلوم بندوق بردار نمودار ہوئے تھے ،جنہوں نے سینئر صحافی ،قلمار اور تجزیہ نگار سید شجاعت بخاری کی گاڑی پر اند ھا دھند فائرنگ کی ،جس میں شجاعت بخاری اپنے 2محافظوں سمیت جاں بحق ہوئے ۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق شادی مرگ پلوامہ میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران3نوجوان کو حراست میں کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ شادی مرگ پلوامہ میں پیر کے روز گرفتاریوں پر ہڑتال رہی ۔رپورٹس کے مطابق شادی مرگ پلوامہ کے قصبہ یارعلاقے میں پولیس وفورسز نے چھاپہ مار کارروائیاں عمل میں لائیں ،جس دوران3نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ علاقے میں نوجوانوں کو حراست میں لینے پر دکانات اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا ۔نوجوانوں کو شبانہ چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران حراست میں لیا گیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایس ایس پی پلوامہ محمد اسلم چودھری نے بتایا کہ ایک نوجوان شادی مرگ علاقے سے حراست میں لیا گیا جبکہ قصبہ یار پلوامہ میں 3نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ حراست میں لئے گئے افراد کچھ کیسوں میں ملوث تھے ۔یہاں یہ بات قابل ذ کر ہے کہ وادی میں رمضان المبارک کے پیش نظر جاری ایک مہینے کی یکطرفہ سیز فائر کی مدت ختم ہونے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے اتوار کے روز اس میں مزید توسیع کرنے سے انکار کردیا۔ مرکزی حکومت نے 16 مئی کو وادی میں ماہ رمضان کے دوران سیکورٹی فورسز کے آپریشنز کو معطل رکھنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم جنگجوؤں کی طرف سے حملے کی صورت میں فورسز کو جوابی کاروائی کا حق دیا گیا تھا۔

Share This Article