مرحوم نے کشمیر ی عوام کی آواز دنیا تک پہنچانے کی ہروقت کوششیں کیں
سری نگر:۱۵،جون: / میرواعظ ڈاکٹر عمر فاروق نے وادی کشمیر کے معروف صحافی، قلمکار، ادیب اور دانشور سید شجاعت بخاری کو نامعلوم بندوق برداروں کی جانب سے شہید کئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ نہ صرف صحافتی آزادی پر حملہ ہے بلکہ یہ یہاں کے تشخص اور یہاں کے عوام پر حملہ ہے ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل مرحوم صحافی کو صحافت ،کشمیری زبان و ادب اور یہاں کے عوام کے حقوق کی ترجمانی کے حوالے سے ان کی گرانقدر خدمات پر زبردست خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے جناب میرواعظ نے کہا کہ سید شجاعت بخاری فقط ایک صحافی ہی نہیں بلکہ ایک دانشور اور کشمیری زبان و ادب کے ترجمان تھے جو کشمیریوں کو درپیش مسائل و معاملات پر بھی اپنی ایک منفرد رائے اور نظریہ رکھتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ رواں تحریک آزادی میں جہاں یہاں کے عوام اور قیادت نے بے پناہ جانی و مالی قربانیاں پیش کیں وہیں یہاں کی صحافتی برادری نے مشکل ترین حالات میں اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے جانی قربانیاں پیش کیں اور یہاں کے عوام کی آواز دنیا تک پہنچانے کی کوششیں کیں۔ ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔میرواعظ نے کہا کہ اس قتل ناحق کی زندگی کے ہر مکتبہ فکر سے وابستہ لوگوں نے مذمت کی اور اس طرح کے عناصرکشمیری عوام اوران کی تحریک کے ہمدرد نہیں ہو سکتے ۔ میرواعظ نے بخاری کے قتل کو ذاتی عناد اور دشمنی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انسانیت کا قتل ہے اور اس پر خاموش نہیں رہا جاسکتا۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ جب بھارت، پاکستان، متحدہ جہاد کونسل اوردیگر عسکری تنظیموں نے اس قتل ناحق کی شدید مذمت کی تو پھر آخر یہ نامعلوم بندوق بردار کون ہیں جو یہاں کی قیادت، دانشوروں، صحافیوں اور تحریک کے ہمدردوں کو مار رہے ہیں، یہ کالی بھیڑیں ہیں جو کشمیریوں کی تحریک آزادی پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ہر مکتبہ فکر سے وابستہ لوگوں کو ایسے عناصر کو بے نقاب کرنے کیلئے آگے آنا چاہئے۔ میرواعظ نے اس طرح کے واقعات کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقوام متحدہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھارت پاکستان اور کشمیری نمائندوں پر مشتمل ایک کمیشن کا قیام عمل میں لائیں تاکہ اس طرح کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہو سکے ۔اس موقعہ پر عوام نے یک زبان ہوکر اس بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی ۔میرواعظ نے کہا کہ من حیث القوم اور من حیث الجماعت یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے واقعات کی مذمت کریں۔میرواعظ نے 14 جون کو کشمیر کی تاریخ کا ایک اہم ترین دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس روز اقوام متحدہ نے جموں وکشمیر پر قراردادوں کی منظوری کے بعد پہلی بار ایک مفصل رپورٹ منظر عام پر لائی ہے جس میں جموں وکشمیر کے عوام پر ہو رہے مظالم،حقوق انسانی کی سنگین پامالیوں کا تفصیل سے تذکرہ کیا گیا ہے اور کہا گیا کہ جموں وکشمیر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے بدترین دہشت گردی کا سامنا کررہے ہیں اور ان کو انکا پیدائشی حق دیا جانا چاہئے۔ میرواعظ نے کہا کہ اگرچہ اقوام متحدہ کو کشمیری عوام کے حوالے سے ذمہ داریوں کے ضمن میں پہلے سے اس طرح کی رپورٹ شائع کرنی چاہئے تھی تاہم دیر آئد درست آئد آخر کار اقوام متحدہ نے اپنی خاموشی توڑی جبکہ ہم گزشتہ 30 برسوں سے کہہ رہے ہیں کہ کس طرح یہاں کالے قوانین، افسپا، مار دھاڑ، پیلٹ بلٹ اور زیر حراست ہلاکتوں کے بل پر یہاں کے عوام کو پشت بہ دیوار کیا جارہا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ حکومت ہندوستان نے کشمیر کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی لانے کے بجائے اس رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا جبکہ یہ رپورٹ کسی جماعت یا فردکی نہیں بلکہ انصاف پسند اقوام پر مشتمل ایک ذمہ دار عالمی فورم کی رپورٹ ہے۔میرواعظ نے اپنی اور کشمیری عوا م کی طرف سے اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کے سربراہ جناب زید رعد الحسین کو اس طرح کی رپورٹ منظر عام پر لانے پر خراج تحسین ادا کیا اور کہا کہ دنیا کے انصاف پسند ممالک کو اس رپورٹ کا سنجیدیگی سے جائزہ لینا چاہئے اور ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ایک کمیشن کا قیام عمل میں لائیں جو کشمیر میں ہو رہی حقوق انسانی کی بدترین پامالیوں کی تحقیقات کرے۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے فوراً بعد شہید صحافی جناب سید شجاعت بخاری اور حالیہ دنوں میں شہید کئے گئے افرادکے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس کی پیشوائی جامع مسجد کے خطیب و امام مولانا سید احمد سعید نقشبندی نے انجام دی۔اس دوران میرواعظ نے عید الفطر کی آمد پر مسلمانوں کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم عید ایسے حالات میں منا رہے ہیں کہ جب ہمارے ہزاروں لخت جگر مختلف جیلوں، انٹراگیشن سنٹروں اور تعذیب خانو ں میں زندگی بسرکررہے ہیں اور عید کے موقعہ پر ہمیں ان لوگوں کی قربانیوں اور ان کے عزم کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔میرواعظ نے اعلان کیا کہ عید الفطر کی نماز تاریخی عیدگاہ سرینگر میں صبح9 بجے ادا کی جائیگی جبکہ وعظ و تبلیغ کی مجلس 8 بجے سے آراستہ ہوگی۔انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ الگ الگ مساجد میں نما ز پڑھنے کے بجائے عیدگاہ میں نماز عید کی ادائیگی کو ترجیح دین۔

