نیشنل کانفرنس اپنے ایجنڈا پر چٹان کی طرح قائم و دائم
سرینگر 07جنوری: نیشنل کانفرنس اپنے اٹانومی کی بحالی کے ایجنڈا اور پالیسی پر قائم و دائم ہے ،یہی ایک ایسا حل ہے جو سب کیلئے قابل قبول ہوسکتا ہے،اگر ہندوستان واقعی جموں وکشمیر اور خطے میں دیرپا امن اور شانتی کا متمنی ہے تو نئی دلی کو دفعہ35اے کو ختم کرنے کی سازشوں کا قلع قمع کرنے کے ساتھ ساتھ دفعہ370 ، 1953سے پہلے کی پوزیشن اور دہلی اگریمنٹ کو بحال کرنا ہوگا اور ساتھ ہی جموں و کشمیر کی 9ویں اسمبلی کی طرف سے 1999میں منظور شدہ قرار اٹانومی کو قبول کرنا ہوگا۔سی این آئی کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی نے آج ہارون دارا میں حلقہ انتخاب سونہ وار کے یک روزکنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن میں پارٹی سرگرمیوں اور پارٹی پروگراموں کے علاوہ لوگوں کو درپیش مسائل و مشکلات کا جائزہ لیا گیا ۔ کنونشن کے آخر پر خطاب کرتے ہوئے ناصر اسلم وانی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور ہمارا یہی موقف ہے کہ اگر اٹانومی سے بہتر کوئی ایسا حل ہے جو تینوں خطوں کے لوگوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتا ہے تو ہم اس قبول کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ہی وہ عوامی نمائندہ جماعت ہے جس نے ریاست میں پریس کی آزادی ،تعلیم ، اظہارِ رائے اور ووٹ پرچی کا حق اور زرعی اصلاحات کے ذریعے زمینوں پر مالکانہ حقوق دلوائے اور اسی جماعت کی حکومتوں نے یہاں مفت تعلیم، مفت علاج و معالجہ، صاف پانی اور اشیائے خورد و نوش کی فراہمی یقینی بنائی۔ نیشنل کانفرنس نے ہی ملک کشمیر کو صدیوں کی غلامی اور چکداری سے نجات دلائی ۔ نیشنل کانفرنس نے کھولے نعرے نہیں دیئے بلکہ علمی طور پر کام کرکے دکھایا۔ ریاست میں قائم جمہوری اور آئینی ادارے بھی نیشنل کانفرنس کی ہی دین ہے۔کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے شمالی زون صدر محمد اکبر لون اور وسطی زون صدعلی محمد ڈار نے ریاست خصوصاً وادی میں بے چینی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات کسی بھی صورت میں ریاست اور ریاستی عوام کیلئے موافق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی حکومت کا تجربہ عوام کیلئے کڑوا ثابت ہوا۔ کبھی سینک کالنیوں اور کبھی علیحدہ پنڈت کالینوں کے قیام کی کوششیں کی گئیں ، کبھی سکولوں سے سٹیٹ سبجیکٹوں کی فراہمی کرنے کی کوشش کی گئی تو کبھی شرناتھیوں کو مستقل باشندگی دینے کیلئے راہ ہموار کرنے کی کوششیں کی گئیں، کبھی حکومتی پشت پناہی میں آر ایس ایس کی ہتھیار بند ریلیوں کا انعقاد کیا گیا تو کبھی جنگلاتی اراضی کے نام پر جموں میں پسماندہ مسلمانوں کو بے گھر کیا گیا۔ محبوبہ مفتی کی حکومت نے وادی میں آپریشن آل آئوٹ اور آپریشن CASOکی داغ بیل ڈالی اور نوجوان پود کیخلاف اعلانِ جنگ کیا۔ سابق پی ڈی پی بھاجپا اتحاد نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ انتظامی سطح پر بھی ناکام رہا، آج بھی چہار سو تعمیر و ترقی کا فقدان ہے، لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں، راشن اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کرکے لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کیا گیا۔اقربا پروری اور اقربانوازی کے سوا سابق پی ڈی پی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔ سابق پی ڈی پی حکومت کی غلط اور ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے ہی آج کشمیر جل رہا ہے ، آئے روز ہلاکتیں ہورہی ہیں، ظلم و جبر کا ماحول گرم ہے، توڑ پھوڑ، مار دھارڈ اور آبادیوں کا بلالحاظ عمر و جنس زد و کوب کرنا عام بات بن گئی ہے۔ اس موقعے پر پارٹی لیڈران شوکت حسین گنائی(ایم ایل سی)، پیر آفاق احمد ضلع صدر سرینگر،سلمان علی ساگر، احسان پردیسی، بشیر احمد گنائی اور عبدالمجید بٹ بھی موجود تھے۔

