زوجیلا ٹنل میں تاریخی پیش رفت،آخری 2.5 میٹر رکاوٹ بھی دھماکے سے ختم

By
1 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

کشمیر وادی اور لداخ کو سال بھر جوڑنے والے اس عظیم الشان قومی منصوبے میں منگل کے روز اس وقت ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی جب سرنگ کے اندر باقی رہ جانے والے آخری 2.5 میٹر حصے کو کامیاب دھماکے کے ذریعے توڑ دیا گیا اور اس کے ساتھ ہی سرنگ کے دونوں سرے آپس میں مل گئے۔ یہ پیش رفت نہ صرف انجینئرنگ کے میدان میں ایک غیر معمولی کامیابی قرار دی جا رہی ہے بلکہ اس سے کئی دہائیوں پر محیط اس خواب کی تعبیر بھی قریب آ گئی ہے جس کے تحت کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں بلا رکاوٹ زمینی رابطہ قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔لداخ کے منی مارگ علاقے میں منعقدہ تقریب کے دوران مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہیں نتن گڈکری نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بریک تھرو دھماکے کا آغاز کیا۔

دھماکے کے بعد سرنگ کے اندر موجود انجینئروں اور کارکنوں نے خوشی کا اظہار کیا جبکہ موقع پر موجود اعلیٰ حکام نے اسے ملکی تعمیراتی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ قرار دیا

Share This Article