ملٹری یاملی ٹنسی مسئلہ کشمیرکے حل کاذریعہ نہیں
شمالی وجنوبی کوریاحبیب بن سکتے ہیں توہندوپاک کی رقابت کیوں ختم نہیں ہوسکتی
سری نگر:3 جون:کے این این / وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے’’کشمیرکوخالصتاًایک سیاسی مسئلہ ‘‘قراردیتے ہوئے واضح کیاکہ یہ مسئلہ ملٹری یاملی ٹنسی کے ذریعے حل نہیں کیاجاسکتاہے۔انہوں نے رمضان سیزفائراقدام کوایک نئی شروعات سے تعبیرکرتے ہوئے مزاحمتی لیڈروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیراورکشمیریوں کوموجودہ گردآب سے باہرنکالنے کیلئے مذاکرات کی راہ اپنائیں ۔وزیراعلیٰ نے مذاکرات کومسائل کے حل اوربحالی امن کاواحدذریعہ قراردیتے ہوئے سوالیہ اندازمیں کہاکہ اگرشمالی وجنوبی کوریاحبیب بن سکتے ہیں توہندوپاک کی رقابت کیوں ختم نہیں ہوسکتی ۔محبوبہ مفتی نے حدمتارکہ پردہائیوں سے بندپڑے راستوں کوکھولنے کی پھروکالت کرتے ہوئے کہاکہ اگرکشمیری مجھے قیام امن میں تعاون دیں تومیں تاریخی راستوں کوکھولنے کامشن کامیابی کیساتھ آگے بڑھائیں گی ۔کے این این سٹی رپورٹرکے مطابق حکمران جماعت پی ڈی پی کے سری نگر،بڈگام اورگاندربل اضلاع کے کارکنان کاکنونشن اتوارکویہاں میونسپل پارک (شیرکشمیرپارک)متصل پی ڈی پی ہیڈکوارٹر منعقد ہوا،جس میں وزیراعلیٰ اورپی ڈی پی کی صدرمحبوبہ مفتی نے بھی شرکت کی جبکہ اس موقعہ پرپارٹی کے نائب سرتاج مدنی اورجنرل سیکرٹری پیرمنصورحسین کے علاوہ کئی وزراء ،ارکان قانون سازیہ ،پارٹی ذمہ داراورعہدیداربھی موجودتھے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ جموں وکشمیرایک سیاسی مسئلہ ہے جسکوسیاسی طورپرہی حل کیاجاسکتاہے ۔انہوں نے واضح کیاکہ کشمیرکے خالصتاًسیاسی مسئلے کوملٹری یاملی ٹنسی کے ذریعے حل نہیں کیاجاسکتاہے ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ عام کشمیریوں کویہ فیصلہ لیناپڑے گاکہ وہ مرکزکی مذاکرات پیشکش کاجواب دیتے ہیں یاکہ موجودہ صورتحال جہاں نوجوانوں کاسنگباری کرنا اوربندوق اُٹھاناروزکامعمول بن چکاہے ،کے ماحول میں ہی اپنی زندگی گزارناچاہتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ سری نگرمیں منعقدہ کل جماعتی اجلاس کے دوران جب رمضان سیزفائرکی تجویزسامنے آئی تومیں نے بحیثیت وزیراعلیٰ کانفرنس کے اختتام پرمرکزسے استدعاکی کہ یہاں جنگ بندی عمل میں لائی جائے ۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے علیحدگی پسند رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں شامل ہوجائیں تاکہ کشمیر میں تشدد کو ختم کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے کی گئی جنگ بندی مذاکرات شروع کرنے کا بہترین موقع ہے اور ایسے موقعے بار بار نہیں آتے۔ وزیر اعلیٰ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے پر زور دیا۔سرینگر میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کا موقف دہرایا کہ ہم اپنے دوست بدل سکتے ہیں، لیکن پڑوسی نہیں۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا عوام کی بہتری کیلئے 70 برس کے بعد دوست بن گئے ہیں، تو بھارت اور پاکستان کیوں عوام کے بار ے میں نہیں سوچتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دونوں اطراف سے گولیاں چل رہی ہیں، اِدھر بھی لوگ ہلاک ہورہے ہیں اُدھر بھی۔ پی ڈی پی صدرکی حیثیت سے محبوبہ مفتی نے اضح کیاکہ ہمارا ایجنڈا یہی ہے کہ جب تک دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب نہیں آئیں گے، صورتحال میں بہتری نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی صورت حال بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات پر مبنی ہے۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے ہی ان کی پارٹی مذاکرات کے حق میں ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز کے درمیان بات چیت کے باوجود بھی سرحد پر گولہ باری جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دونوں ممالک کے فوجی افسران (ڈی جی ایم اوز) ایک مرتبہ پھر مذاکرات کریں۔محبوبہ مفتی نے حدمتارکہ پردہائیوں سے بندپڑے راستوں کوکھولنے کی پھروکالت کرتے ہوئے کہاکہ اگرکشمیری مجھے قیام امن میں تعاون دیں تومیں تاریخی راستوں کوکھولنے کامشن کامیابی کیساتھ آگے بڑھائیں گی ۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اسبات پرغورکرناچاہئے کہ ہمارے لئے کون ساراستہ صحیح ہے اورہماری نوجوان نسل کامستقبل کیاہوناچاہئے ۔

