پیغمبر اسلام آنحضرت ﷺ نے حسن اخلاق کی تلوار سے اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کی
سرینگر:۱۰،جون: / میرواعظ عمر فاروق نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کو مسلمانوں کیلئے بحیثیت مجموعی بے شمار طبی ، جسمانی اور روحانی فوائد کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مہینہ جہاں تقویٰ ، پرہیزگاری، خشیت الٰہی ، نیکیوں کی جانب رغبت، برائیوں سے پرہیز اور اپنی خواہشات کو اللہ کی مرضیات کے تابع کرنے کا جذبہ عطا کرتا ہے وہیں یہ مہینہ ایک روزہ دار کو پورے مہینے کھانے اور نفسیانی خواہشات پر قابو پاکر ایک پاکباز مسلمان بننے کا خوگو بنا دیتا ہے ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق رمضان المبارک کے عشرۂ نجات میں شیخ العالمؒ مسجد احمد نگر میں نماز عصر سے قبل ایک بھاری دینی اجتماع سے خطا ب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اسلام میں کردار کی تعمیر پر خصوصی زور دیا گیا ہے اور پیغمبر اسلام ﷺ کو معلم اخلاق بنا کر پوری امت کو اخلاق حمیدہ کا خوگو بننے کی تلقین کی گئی ہے تاکہ ایک غیرمسلم ایک مسلمان کے صالح کردار ، حسن اخلاق اور حسن عمل سے متاثر ہوکر اسلام کی انسان ساز تعلیمات کا معترف ہو سکے۔ میرواعظ نے کہا کہ اسلام دراصل حسن اخلاق کا ہی دوسرا نام ہے اور پیغمبر اسلام آنحضرت ﷺ جو اخلاق حسنہ کا کامل پیکر اور مجسمہ تھے انہوں نے حسن اخلاق کی تلوار سے ہی اسلام کی تبلیغ اور اشاعت میں ایک کلیدی کردار ادا فرمایا۔چنانچہ آپ ﷺ کے بلند اخلاق اور کردار کی تعریف خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمائی ہے اور آنحضرت ﷺ نے حسن اخلاق کو تمام اعمال کی بنیاد اور کلید قرار دیا ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ ہمیں بحیثیت مسلمان اپنی شبانہ زندگی میں اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے اور جلوت و خلوت میں اخلاق اور کردار کے دامن کو تھام کر ہر مرحلے پر ایک ایسا رویہ اپنانے کی ضرورت ہے جس سے دنیا تک یہ پیغام پہنچے کہ مسلمان ایک منفر د مزاج اور شناخت کا حامل انسان ہوتا ہے اور اس کی زبان اور ہاتھ سے کسی کو بھی کوئی تکلیف یا زحمت نہیں پہنچتی ہے ۔ میرواعظ نے کہا کہ ایک مسلمان چاہے اس کا تعلق زندگی کے کسی بھی شعبے یا پیشے سے ہو کو ہر حال میں اخلاقایات کا دامن تھامے رکھنا چاہئے اور اپنی روز مرہ کی زندگی میں غیر معمولی اور ناخوشگوار حالات کے باوجود اسے صبر ، تحمل ، برداشت ،ر واداری اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ دین اسلام کی جملہ تعلیمات کا ایک تہائی حصہ اخلاقیات پر مشتمل ہے اور جسے آج کے دور میں بالخصوص ماہ رمضان کے مقدس ایام میں عام سے عام کرنے کی اشد ضرورت ہے تبھی جاکر ایک فلاحی اور برائیوں سے پاک سماج اور معاشرے کی تعمیر کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے ۔

