خصوصی ویڈیو رپورٹ : پلوامہ لہو لہان :حزب کمانڈر سمیت 3مقامی جنگجو7عام شہری جاں بحق ، فوجی اہلکار ہلاک ، کئی زخمی

By
11 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
جنازوں میں ہزاروں شریک،مواصلاتی بندشیں،ریل معطل،کئی مقامات پر احتجاج اورہڑتال

جھڑپ کے دوران علاقے میں پُر تشدد مظاہرے ، پیلٹ و بلٹ فائرنگ سے ایم بی اے طالب علم سمیت 7نوجوان ازجان
جنگجوئوں اور شہری ہلاکتوں کے خلاف جنوبی کشمیر ،سرینگر اور سوپور ابل پڑا ، پُر تشدد جھڑپیں میں 50 سے زائد زخمی

سرینگر/15دسمبر/سی این آئی/ جنوبی ضلع پلوامہ کے سرنو کھارپورہ علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان خونین معرکہ آرائی میں اعلیٰ حزب کمانڈرسمیت 3 مقامی جنگجوئوں جاں بحق ہو گئے جبکہ طرفین کے مابین گولی باری میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا جبکہ نتیجے میں نصف درجن فورسز اہلکار بھی زخمی ہو گئے ، اسی دوران جھڑپ کے بیچ پُر تشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران ضلع پلوامہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 7نوجوان از جان جبکہ سو سے زائد زخمی ہوگئے ۔ اسی دوران حزب کمانڈر اور عام شہریوں کی ہلاکت کے خبر پھیلتے ہی وادی میںدرجنوں مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی اور مشتعل مظاہرین اور فورسز کے مابین شدید پتھرائو اور ٹیر گیس شیلنگ نتیجے میں کئی پولیس اہلکاروں سمیت درجنوںافراد مضروب ہوئے جبکہ انتظامیہ نے افواہوں کی روکتھام کیلئے جنوبی کشمیر اور سرینگر میںموبائیل انٹر نیٹ خدمات بند مطلع کی جبکہ بانہال بارہمولہ ریل سروس بھی ہنگامی طور بند کی گئی ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کھار پور ہ سرنو پلوامہ میں ٹیر ٹوریل فوجی اہلکار سے جنگجو ئوں بنا حزب کمانڈر اور اس کے ساتھیوں کی موجودگی کے بعد فوج و فورسز ، سی آر پی ایف اور ایس او جی پلوامہ نے علاقے کوسنیچروار کی صبح محاصرے میں لیکر وہاں جنگجو مخالف آپرین شروع کیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اعلیٰ صبح علاقے میں اُس گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب ایک رہائشی مکان میں محصور جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور جنگجوئوں کے مابین گولیوں کا کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس دوران فورسز نے مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم وہ بضد رہے جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے رہائشی مکان پر مارٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں مکان زمین بوس ہو گیا ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل چار گھنٹے تک جھڑپ جاری رہنے کے بعد فوج نے رہائشی مکان میں مارٹر گولے داغے جس کی وجہ سے دو مکان زمین بوس ہو گئے اور فوج نے مکان کے ملبے سے 3مقامی جنگجوئوں کی نعشیں برآمد کی ۔جن کی شناخت ظہور احمد ٹھوکر ساکنہ سرنو پلوامہ ، عدنان احمد عرف طاہر حزبی اور بلال احمد عرف ہاشم ساکنہ راجپورہ پلوامہ کے بطور ہوئی جبکہ تصادم میں سیکورٹی فورسز کے کئی اہلکار زخمی ہوئے جن کو فوجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ظہور ٹھوکر پہلے فوج میں تھا اور 2016میں عسکریت کی راہ پر چل پڑا تھا۔ظہور احمد ٹھوکر فوج کی173 ٹی اے بٹالین میں تعینات تھا۔ اس نے فوج کی ٹریننگ لینے کے بعد کئی آپریشن میں حصہ لیا تھا، لیکنسرینگر/15دسمبر/سی این آئی/ جنوبی ضلع پلوامہ کے سرنو کھارپورہ علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان خونین معرکہ آرائی میں اعلیٰ حزب کمانڈرسمیت 3 مقامی جنگجوئوں جاں بحق ہو گئے جبکہ طرفین کے مابین گولی باری میں ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا جبکہ نتیجے میں نصف درجن فورسز اہلکار بھی زخمی ہو گئے ، اسی دوران جھڑپ کے بیچ پُر تشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران ضلع پلوامہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 7نوجوان از جان جبکہ سو سے زائد زخمی ہوگئے ۔ اسی دوران حزب کمانڈر اور عام شہریوں کی ہلاکت کے خبر پھیلتے ہی وادی میںدرجنوں مقامات پر احتجاجی مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی اور مشتعل مظاہرین اور فورسز کے مابین شدید پتھرائو اور ٹیر گیس شیلنگ نتیجے میں کئی پولیس اہلکاروں سمیت درجنوںافراد مضروب ہوئے جبکہ انتظامیہ نے افواہوں کی روکتھام کیلئے جنوبی کشمیر اور سرینگر میںموبائیل انٹر نیٹ خدمات بند مطلع کی جبکہ بانہال بارہمولہ ریل سروس بھی ہنگامی طور بند کی گئی ۔ سی این آئی کو دفاعی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کھار پور ہ سرنو پلوامہ میں ٹیر ٹوریل فوجی اہلکار سے جنگجو ئوں بنا حزب کمانڈر اور اس کے ساتھیوں کی موجودگی کے بعد فوج و فورسز ، سی آر پی ایف اور ایس او جی پلوامہ نے علاقے کوسنیچروار کی صبح محاصرے میں لیکر وہاں جنگجو مخالف آپرین شروع کیا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اعلیٰ صبح علاقے میں اُس گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب ایک رہائشی مکان میں محصور جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی ۔معلوم ہوا ہے کہ فورسز اور جنگجوئوں کے مابین گولیوں کا کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہا جس دوران فورسز نے مکان میں چھپے بیٹھے جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کی پیشکش کی تاہم وہ بضد رہے جس دوران طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ فورسز نے رہائشی مکان پر مارٹر گولے داغے جس کے نتیجے میں مکان زمین بوس ہو گیا ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مسلسل چار گھنٹے تک جھڑپ جاری رہنے کے بعد فوج نے رہائشی مکان میں مارٹر گولے داغے جس کی وجہ سے دو مکان زمین بوس ہو گئے اور فوج نے مکان کے ملبے سے 3مقامی جنگجوئوں کی نعشیں برآمد کی ۔جن کی شناخت ظہور احمد ٹھوکر ساکنہ سرنو پلوامہ ، عدنان احمد عرف طاہر حزبی اور بلال احمد عرف ہاشم ساکنہ راجپورہ پلوامہ کے بطور ہوئی جبکہ تصادم میں سیکورٹی فورسز کے کئی اہلکار زخمی ہوئے جن کو فوجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔ظہور ٹھوکر پہلے فوج میں تھا اور 2016میں عسکریت کی راہ پر چل پڑا تھا۔ظہور احمد ٹھوکر فوج کی173 ٹی اے بٹالین میں تعینات تھا۔ اس نے فوج کی ٹریننگ لینے کے بعد کئی آپریشن میں حصہ لیا تھا، لیکن ایک دن اچانک ٹھوکر اپنی رائفل کے ساتھ کیمپ سے لاپتہ ہو گیا۔ پھر جولائی میں حزب المجاہدین نے حزب میں شامل ہونے کی تصدیق کر دی تھی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ابھی علاقے میں خونین معرکہ آرائی جاری تھی کہ پلوامہ کے ہی درجنوں علاقوں میں تین جنگجوئوں کے جاں بحق ہونی کی خبر وادی کشمیر میں جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور بڑی تعداد میں نوجوان سڑکوںپر نکل آئے او رپولیس و فورسز پر سنگ باری شروع کی ۔تشدد پر اُتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے ، پیلٹ گولیوں اور پیپر گیس کا بھی استعمال کیا تاہم صورتحال قابو سے باہر ہوگئی اور پولیس وفورسز نے سڑکوں پرنکل آنے والے نوجوانوں اور سنگ باری کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں پولیس و فورسز کی جانب سے گولیاں چلانے کے دوران مبینہ طور پر 50افراد شدید طور پر زخمی ہوئے جن میں سے 7 نوجوان زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھے ۔فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوانوں کی شناخت توصیف احمدساکنہ اچھروسوں ، لیاقت ڈار ساکنہ پاری گام پلوامہ ، سہیل احمد ساکنہ بیلو پلوامہ ، شہباز احمد ساکنہ مہنگہامہ ، عامر احمد پال ساکنہ اوشمندر ، مرتضی بشیر ساکنہ پرژھو اور عابد حسین لون ساکنہ کریم آباد پلوامہ کے بطور ہوئی ہے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے بیشتر مہلوکین مسلح تصادم کے مقام پر سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے ہیں۔ جنوبی کشمیر میں زخمی ہونے والے نوجوانوں کی تعداد درجنوں میں بتائی جارہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بلٹ اور پیلٹ سے شدید طور پر زخمی ہونے والے قریب ڈیڑھ درجن نوجوانوں کو علاج ومعالجہ کے لئے سری نگر کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ جنوبی کشمیر بالخصوص شوپیان کی صورتحال کشیدہ مگر قابو میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں کسی بھی طرح کی پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ احتیاطی طور پر حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ ہلاکتوں کی خبر پھیلتے ہی درجنوں علاقوں میں پرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا اور وادی کے بیشتر علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز ہوگئے اور پبلک و نجی ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب ہوگئی۔ مختلف کاموںکے سلسلے میں اپنے گھروں سے باہرنکلنے والے لوگ عجلت میں واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے اسی دوران سبب وادی میں پیدا ہونے والی صورتحال کے سبب اہلیان وادی انتہائی بے قراراور بے چین نظر آئے۔ احتجاجیوں اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں میں کم از کم تین درجن افرادکے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ وادی کے درجنوں مقامات بالخصوص سری نگر میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور سیکورٹی فورسز پر پتھراؤ کرنے لگے۔ اسی دوران انتظامیہ نے افواہو ں کی روکتھام کیلئے جنوبی کشمیر اور سرینگر میں موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کی جبکہ وادی کے دیگر علاقوں میں انٹر نیٹ خدمات معطل کی گئی ۔

Share This Article