حافظ سعید اور اس کے ساتھی کوسزادینا ایک مثبت قدم / امریکی محکمہ خارجہ

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر 13فروری: امریکہ نے لشکر طیبہ اور جمعیۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید اور اس کے ساتھی کو پاکستان کی عدالت نے منی لارنڈرنگ کیس میں سزاکا خیر مقدم کیا۔اور کہا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق حافظ سعید کو مجرم ٹھہرایا جانا اور لشکر طیبہ کے جرائم پر انصاف کے کٹہرے میں لانا ایک مثبت قدم ہے۔انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے کل جمعیۃ الدعوۃ کے امیر کو شدت پسندوں کی معاونت کے سلسلے میں پانچ سال کی سزا سنائی۔ ان کے خلاف دو مقدما ت درج ہیں جبکہ مجموعی سزا11برس قید کی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے مختلف دفعات کے تحت یہ فیصلہ سنایا۔لیکن انہیں ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حافظ سعید پر یہ الزام بھی ثابت ہوا کہ وہ شدت پسند تنظیم کا حصہ ہے اور وہ غیر قانونی طریقے پر کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہیں۔ حافظ سعید کے علاوہ پروفیسر ظفر اقبال کو بھی11سال قید کی سزا سنائی۔پچھلے سال جولائی میں حافظ سعید ،عبدالرحمن مکی اور دوسرے 12کالعدم تنظیموں کے رہنمائوں کو دودرجن سے زیادہ شدت پسندی کے کیسوں میں گرفتار کیاگیا۔ انہیں اس وقت گرفتار کیاگیا جب وہ گجرانوالہ سے لاہور آرہے تھے۔ حالانکہ حافظ سعید نے کہا کہ وہ کسی بھی تنظیم سے تعلق نہیں رکھتے ہیں لیکن یہ ثابت ہوا کہ دعوۃ الارشار ٹرسٹ ،الانفال ٹرسٹ، المدینہ فائونڈیشن اور احمد ٹرسٹ کے ساتھ وہ وابستہ ہے۔ امریکی وزارت خارجہ نے کہا کہ ان کو سزا دینے سے پاکستان نے بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دیا کہ و ہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کا عہد بند ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے