جموں وکشمیربھارت اورنہ پاکستان کاحصہ :ظفراکبربٹ

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

بندوق اُٹھاناکشمیری نوجوانوں کی مجبوری

سری نگر:۱۲،جون: / سینئرمزاحمتی لیڈرظفراکبربٹ کادوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ جموں وکشمیرریاست بھارت اورنہ پاکستان کی ہے بلکہ ریاستی عوام کی ہے،اوریہی اس سرزمین کے اصل وحقیقی مالک ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بھارت اورپاکستان نے ریاست کے ایک ایک حصے کوقبضے یاکنٹرول میں لے رکھاہے۔کے این این کے مطابق ایک انٹرویوکے دوران سالویشن مومنٹ کے چیئرمین ظفراکبربٹ نے واضح کیاکہ جب 1947میں برصغیربرطانوی سامراج کی غلامی سے آزادہوا،اوربھارت وپاکستان کی شکل میں دوآزاداورخودمختارمملکتوں کاقیام عمل میں لایاگیاتواُسوقت ریاست جموں وکشمیر برصغیر کا حصہ نہیں بلکہ ایک خودمختارریاست تھی ۔انہوں نے کہاکہ بھارت اورپاکستان کی طرح جموں وکشمیرکی اپنی علیحدہ پہچان اورشناخت تھی ۔انہوں نے کہاکہ1947میں یہ متحدہ ریاست تقسیم ہوکررہ گئی کیونکہ بھارت نے ایک حصے اورپاکستان نے دوسرے حصے پرقبضہ کیایاکہ کنٹرول میں لیا۔ظفراکبربٹ کاکہناتھاکہ جب جموں وکشمیرکامعاملہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل پہنچاتویہاں سلامتی کونسل نے اس مسئلے کاحل نکالنے کیلئے کئی قرادادیں منظورکیں ،جن میں یہ واضح کیاگیاکہ مسئلہ جموں وکشمیرکاایک ہی حل ہے کہ ریاست کے لوگوں کواپنے مستقبل کافیصلہ لینے کیلئے حق خودارادیت کاموقعہ فراہم کیاجائے ،اوراس مقصدکیلئے بھارت اورپاکستان کے زیرکنٹرول ریاست کے سبھی علاقوں میں آزادانہ اورمنصفانہ رائے شماری کرائی جائے ۔سالویشن مومنٹ کے چیئرمین نے مزیدکہاکہ بھارت کے اولین وزیراعظم پنڈت جواہرلعل نہرؤنے سری نگرکے تاریخی لالچوک میں جلسہ عام سے خطاب کے دوران سلامتی کونسل کی منظورکردہ قراردادوں کی روشنی میں واضح کردیاکہ کشمیریوں کوحق خودارادیت کے اصول کے تحت رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کاموقعہ دیاجائیگا۔انہوں نے کہاکہ 1947سے لگ بھگ 4دہائیوں تک کشمیری عوام نے اپنے مسلمہ حق کیلئے پُرامن جدوجہدجاری رکھی ،اوریہا ں تک 1987میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیکرسیدعلی گیلانی اورسیدصلاح الدین سمیت کشمیرحریت پسندقیاد ت نے جمہوری راستہ بھی اپنایالیکن اس میں بھی روڑے اٹکائے گئے ۔ظفراکبربٹ نے کہاکہ جب بھارت نے سبھی جمہوری اورپُرامن راستے مسدودکردئیے توکشمیری نوجوان بندوق اُٹھانے کیلئے مجبورہوگئے۔انہوں نے کہاکہ ہم مسئلہ کشمیرکے پُرامن کے حامی ہیں لیکن یہ بھارت پرمنحصرہے کہ وہ اس سلسلے میں کیاموقف اورپالیسی اختیارکرتاہے ۔ظفراکبربٹ نے کہاکہ کشمیری حریت پسندلیڈرشپ مذاکرات کیخلاف نہیں ہے لیکن چاہتی ہے کہ مذاکرات کامقصدوقت گزاری نہیں بلکہ مسئلہ کشمیرکاحل ہوناچاہئے۔

Share This Article