جعلی سرکاری نوکریوں کی آڑمیں لاکھوں روپے اینٹھنے والے گروہ کاپردہ فاش،متعدد گرفتار

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سری نگر’ جعلی سرکاری نوکریوں کی آڑمیں لاکھوں روپے اینٹھنے والے گروہ کاپردہ فاش“کرتے ہوئے سری نگرپولیس 6جعلسازوں اور2ملازمین کی گرفتاری عمل میں لاکراُنکی تحویل سے جعلی تقرری کے کئی آرڈر ، جعلی مہریں اوردےگر دستاوےزات ضبط کئے ۔پولیس حکام نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ جعلسازوں کے گروہ میں کچھ سرکاری ملازمین کے ملوث ہونے کاانکشاف کرتے ہوئے بتایاکہ اس سنسنی خیزاسکنڈل میں 4اہم سرغنہ گرفتاری سے بچنے کیلئے روپوش ہوگئے ہیں جن کی تلاش بڑے پیمانے پرشروع کردی گئی ہے۔معلوم ہواکہ سر ینگرپولیس نے بے روزگارنوجوانوں کو جعلی سرکاری نوکریوں کے آرڈرتھمانے والے ایک ایسے منظم گروہ کوبے نقاب کیاجس میں کئی سرکاری ملازمین اورسیاسی چمچوں کے شامل ہونے کااندیشہ ہے ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ 15دسمبر2017کوتھانہ پولےس رامنشی باغ سرےنگر کو عبدالرشےدپرے ساکن نہالپورہ پٹن کی جانب سے تحرےری درخواست موصول ہوئی، جس مےں درخواست دہندہ نے بتاےا تھا کہ اُسے اور دےگر17 افراد کو 3جعلسازوںنے جعلی سرکاری نوکری دےکر ڈھگ لےا۔درخواست دہندہ نے پولیس کوبتایاکہ اُسے اوردیگرڈیڑھ درجن بے روزگاروں کوٹھگنے والوں میںمشتاق احمد گنائی ساکن کولگام ، فےاض احمد ڈار عرف اعجاز ساکن پٹن بارہ مولہ اور شام لال عرف منہاس ساکن جموں شامل ہیں ۔ عبدالرشےدپرے ساکن نہالپورہ نے پولیس کویہ بھی بتایاکہ تینوں ٹھگوں نے ملکراُسے اوردیگر17افرادسے سرکاری نوکری دلانے کی آڑمیں 57 لاکھ روپے وصول کئے۔پولیس کوبتایاگیاکہ سرکاری نوکریوں کے جوآرڈراُنھیں تھمادئیے گئے وہ جعلی نکلے ۔پولیس ذرائع نے بتایاکہ اس اطلاع کے موصول ہونے پر تھانہ پولےس رامنشی باغ نے کےس زےر اےف آئی آر نمبر124/2017 زےر دفعہ 420،468،471آرپی سی درج کرکے اس سلسلے مےں اےک خصوصی تفتےشی ٹےم تشکےل دی۔ پولےس نے تےنوں ملزمان مشتاق احمد گنائی ساکن کولگام ، فےاض احمد ڈار عرف اعجاز ساکن پٹن بارہ مولہ اور شام لال عرف منہاس ساکن جموں کو جموں سے گرفتارکےا ۔ابتدائی تفتےش کے دوران پولےس کو پتہ چلا کہ اس گروہ مےں شامل افرد کا تعلق وادی کے اطراف و اکناف سے ہے، جنہوں نے درجنوں بے روز گار نوجواں کو اب تک جعلی سرکاری نوکرےوں دےکر پھنساےا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق اس گروہ میں مزےد 3 افراد بلال احمد ڈار ساکن کرالہ کھڈ ، ارشد احمد ساکن سنوار ، عبدلجبار حجام ساکن کپواڑہ شامل ہےں جوکہ بے روزگار نوجوانوں کو ورغلا پھسلا کر جعلی سرکاری نوکرےوں کا آرڈر بھاری رقم کے عوض فراہم کرنے کے بعد اِ ن بے روز گار نو جوانوںکو مشتاق احمد ، فےاض اور شام لعل سے ملاتے تھے جوکہ خود کو سینئر سرکاری آفےسر جتلایاکرتے تھے اور سےکرٹرےٹ مےں تعینات ہونے کا دعویٰ کیاکرتے تھے ۔پولیس ذرائع کے مطابق لاکھوں روپے وصولنے کے بعدجعلسازوں کاگروپ بے روزگارنوجوانوں کو محکمہ جنگلات ،محکمہ صحت ، جموں وکشمےر بےنک اور محکمہ زراعت مےں جعلی نوکرےوں کے آرڈر فراہم کیاکرتا تھا۔ پولےس کو ملزمان کی تفتےش کے دوران مزےد انکشاف ہوا کہ اس گروہ مےں مختلف سرکاری محکموں مےں تعینات درجہ چہارم سطح پر کام کررہے کچھ ملازموں کے ملوث ہونے کا امکان ہے ،اوراس بناءپر پولےس نے 2سرکاری ملازموں کو پوچھ تاچھ کےلئے بلاےا ہے۔ پولیس ذرائع نے یہ انکشاف کیاکہ بے روزگارنوجوانوں کوٹھگنے والے اس گروہ کے اصل چارسرغنہ ہیں جو گرفتاری سے بچنے کیلئے روپو ش ہوئے ہےں۔ پولیس نے ان چاروں بڑے جعلسازوں کی گرفتاری عمل میں لانے کیلئے عام لوگوں سے تعاون طلب کرتے ہوئے بتایاکہ اگر کسی شخص کو اس کےس کے بارے مےں کوئی بھی جانکاری ہوتو وہ تھانہ پولےس رامنشی باغ سرےنگر ےا پولےس کنٹرول روم کشمےر سے رابطہ قائم کرے۔ اس دوران پولیس ذرائع نے بتایاکہ گرفتارملزمان کی نشاندہی پرایچ ایم ٹی سرینگرمیں قائم اےک کمپوٹر دستاوےزی مرکز مےں چھاپہ ڈالا جہاں سے ، جعلی تقرری آرڈر ، شناختی کارڈ جہاں سے ان کا پرنٹ نکلا جاتا ہے ۔ مذکورہ کمپوٹر سنٹر کے مالک کو پولےس نے تمام پرنٹنگ مواد سمےت گرفتارکےا ۔ پولیس ذرائع نے بتایاکہ ابتک 7ملزمان کی گرفتاری عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ سرےنگر پولےس نے بے روز گار نوجوانوں کو ورغلا پھسلاکر جعلی سرکاری نوکرےاں فراہم کرنے والے گروہ کے قبضے سے جعلی تقرری کے آرڈر ، مہر اور جعلی حکومتی افےسران کے سےل و دستخط کے علاوہ دےگر دستاوےزات ضبط کئے گئے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے