سرینگر // سرور کائنات فخر موجودات حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے سیرتی مجالس کے انعقاد کے سلسلے میں عوامی مجلس عمل جموںوکشمیر کے زیر اہتمام تاریخی میرواعظ منزل پر ایک پرو قار سیرتی تقریب منعقد ہوئی ۔ صدارت کے فرائض عوامی مجلس عمل کے سربراہ اور متحدہ مجلس علماءکے امیر میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے انجام دئے جبکہ وادی کے جن جید علمائے کرام ، مفکرین حضرات ، مذہبی و سیاسی رہنماﺅں نے سیرت نبوی ﷺ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی ،ان میں مولانا محمد عباس انصاری، محمد یاسین ملک، مولانا شوکت حسین کینگ، جماعت اسلامی جموںوکشمیر کے نذیر احمد رانا، سید علی شاہ گیلانی کی تحریک حریت جموںوکشمیر کے رفیق احمد اویسی ،انجمن حمایت الاسلام کے مولانا خورشید احمد قانون گو، انجمن تبلیغ الاسلام کے مولانا علی اکبر، کشمیر یورنیورسٹی کے ریسرچ اسکالر محمد نعیم، معروف نعت خواں میر شبیر احمد اور نصرت الاسلام کے مولانا ایم ایس رحمن شمس وغیرہ شامل تھے۔پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اقدس کے انسانیت ساز پہلوﺅں پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے صدارتی خطاب میں میرواعظ نے کہا کہ موجودہ دور میں جبکہ مسلم امہ خارجی اور داخلی سطح پر ان گنت مسائل اور مشکلات سے دوچار ہے اور اسلام کے آفاقی نظام حیات کو دنیا کے سامنے غلط رنگ میں پیش کرنے کی استعماری سازشیں پوری شدت سے جاری ہیں ایسے میں سیرت نبوی ﷺ کو زندگی کے ہر شعبے میں رہنما بنا کر ہی ملت کی شیرازہ بندی کا کٹھن مرحلہ طے کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے مقامی ،برصغیر اور عالم اسلام کی موجودہ تکلیف دہ صورتحال اور اسلام اور مسلمانوںکو درپیش مسائل پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے عالم اسلام کی سب سے بڑی تنظیم او آئی سی اور خاص طور پر تین بڑے اسلامی ملکوں، سعودی عرب، پاکستان اور ایران سے اپیل کی کہ وہ امت اسلامیہ کو درپیش مسائل کے حل اور موجودہ بحران سے نکالنے کیلئے اپنا کلیدی اور رہنمایانہ کردار ادا کریں۔ میرواعظ نے کہا کہ بھارت کے مسلمان اور اقلیت بھی طرح طرح کے سماجی اور سیاسی مسائل سے دوچار ہیں ، بابری مسجد کی شہادت کو آج 25 سال گزرنے کے باوجود آج تک مسلمانوںکو نہ تو انصاف ملا ہے اور نہ ہی بھارت میں انکا جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ ہے ،آئے روز ایک نہ دوسرے بہانے مسلمانوںکو چن چن کر قتل کیا جاتا ہے، ان کا دینی تشخص اور پرسنل لاءخطرے سے دوچار ہے اور خالص دینی، شرعی مسائل میں حکومت اور عدلیہ مداخلت کررہی ہے جو بیحد تشویشناک ہے ۔کے ایم ا ین کے مطابق میرواعظ نے جموںوکشمیر کی تازہ ترین صورتحال کو انتہائی پریشان کن دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے فوجی جماﺅ والے اس خطے میں گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے قتل و غارت گری ، مار دھاڑاور بنیادی انسانی حقوق کی پامالیاں پورے تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور حکومت ہند کشمیریوں کی اپنی جدوجہد اور تحریک کو طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کچلنے کیلئے وہ تمام حربے استعمال کررہی ہے جو کچھ اس کے بس میں ہے، تاہم میرواعظ نے کہاکہ جموںوکشمیر کی تحریک یہاں کے لوگوں کے خون اور دل و دماغ میں رچ بس گئی ہے اور حکومت جس قدر طاقت کا استعمال کریگی اُسی شدت کے ساتھ عوام اور نوجوان تحریک کے ساتھ اپنی وابستگی کا مظاہرہ کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ رواں تحریک آزادی جو بے مثال قربانیوں ، شہادتوں اور ہجرتوں سے لبریز ہے اور بلا امتیاز قیادت اور عوام نے جان و مال کا نذرانہ پیش کیا ہے اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے دباﺅ اور مشکلات کے باوجود قیادت اور عوام کو ہر سطح پر استقامت اور یکسوئی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔میرواعظ نے سیرت رسول رحمت ﷺ کے پیغام کو عملی زندگی میں اتارنے اور فرد و معاشرہ کی اصلاح کیلئے اسے مینارئہ نور قرار دیتے ہوئے کہا کہ رسول رحمت ﷺ کی سیرت پاک اور رہنمائی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔انہوں نے بعض عناصر کی جانب سے مسلکی معاملات کو ہوا دیکر ملی اتحاد کو زک پہنچانے کی کوششوںکو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے نامنہاد علماءاور واعظین شعوری اور غیر شعوری طور پر دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں اور اس طرح رواں تحریک آزادی کو کمزور کرنے کی ایجنسیوں کے ایجنڈے کو بڑھاوا دینے کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق میرواعظ نے اعلان کیا کہ اس تمام تر صورتحال کے جائزے اور انسداد کیلئے عنقریب متحدہ مجلس علماءاور سرکردہ شخصیات کا ایک اجلاس طلب کیا جائیگا۔سیرتی تقریب میں تقریر کرتے ہوئے محمد یاسین ملک نے موجودہ سیاسی اور تحریکی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قیادت کا موجودہ اتحاد دشمن کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا ہے اور اس اتحاد کو توڑنے کیلئے ایجنسیاں متحرک ہو گئی ہیں لیکن ہم عہد کرتے ہیں کہ تحریک اور کشمیری عوام کے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھ کر اتحاد کے اس مشعل کو کسی قیمت پر بجھنے نہیں دیں گے اور نہ ہی اتحاد دشمن قوتوں کے عزائم کو کامیاب ہونے دیں گے۔ مولانا عباس انصاری نے رسول رحمت ﷺ کی تعلیمات اور اسوئہ حسنہ کے کئی گوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ نبی پاک ﷺ کی تعلیمات اور ہدایات کو دینی اور دنیوی کامیابی کا نوید سمجھیں۔اپنے خطابات میں مدعو مقررین نے پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اقدس کے مثالی اسوئہ حسنہ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پریشانیوں اور مشکلات کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ یہ امت اپنے مرکز سے دور ہوتی جارہی ہے ، رسول رحمت ﷺ کی ذات کو اللہ تعالیٰ نے پوری امت کے ساتھ ساتھ ساری انسانیت کیلئے سرچشمئہ ہدایت قرار دی ہے اور اسی ذات سے عقیدت و محبت اور اس کے اسوئہ حسنہ کی پیروی کو اللہ کی خوشنودی کا بنیادی محور قرار دیا ہے اور آج اگر یہ امت جس کو ساری بنی نوع انسان کی رہنمائی کے خلعت فاخرہ سے سرفراز کیا گیا ہے، غیروں کے رحم و کرم پر ٹکی ہوئی ہے تو اسکی سب سے بڑی وجہ ذات رسول رحمت ﷺ سے دوری اور اسلام کے آفاقی پیغام سے چشم پوشی ہے۔
