انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ گمراہ کن :مرکزی وزارت خارجہ
سری نگر:۱۴،جون:/ بھارت نے اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق البشر کی جانب سے کشمیرمیں حقوق انسانی صورتحال سے متعلق رپورٹ کو یکسر مسترد کیا ۔مرکزی وزارت خارجہ نے اس رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیا ۔کے این این کے مطابق اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق البشر کی جانب سے کشمیرمیں حقوق انسانی صورتحال سے متعلق رپورٹ پر بھارت نے سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو یکسر مسترد کرد یا ۔مرکزی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے ،جس میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ گمراہ کن ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ تعصب پر مبنی ہے جبکہ رپورٹ کے ذریعے ایک غلط داستان رقم کرنے کی کوشش کی گئی ۔مرکزی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق البشر کی جانب سے کشمیرمیں حقوق انسانی صورتحال سے متعلق رپورٹ بھارتی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی منافی ہے ۔انہوں نے مذکورہ رپورٹ پر سوالیہ بھی لگایا ۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں منتخب تالیف میں زیادہ تر غیر تصدیق شدہ معلومات موجود ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ پاکستان نے اِ سکے ایک حصہ طاقت کے بل پر قبضہ کیا ہے ۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے شعبہ حقوق البشرنے منقسم ریاست جموں وکشمیرمیں حقوق انسانی صورتحال کے حوالے سے اپنی پہلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے خبردارکیاہے کہ 7دہائی پرانے تنازعہ کشمیرابتک ہزاروں لاکھوں زندگیوں کوتباہ وبربادکردیاہے۔سوئزرلینڈکے شہرجنیوامیں49صفحات پرمشتمل رپورٹ جاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ ہائی کمشنربرائے حقوق انسانی زیدرعدالحسین نے کشمیر کے آر پار سنگین نوعیت کی حقوق انسانی پامالیوں اورمرتکب سیکورٹی اہلکاروں کو استثنیٰ دیئے جانے کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کی سفارش کردی ہے۔انہوں نے خبردار کیاکہ تنازعہ کشمیر صرف ہندوستان اورپاکستان کے درمیان کشیدگی اور ٹکراؤ کی بنیادی وجہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ تنازعہ اب تک لاکھوں ، ہزاروں انسانی زندگیوں کی تباہی وبربادی کا موجب بھی بنا ہے ۔

