بمنہ ، خمانی چوک سپدن بڈگام کے روٹ پر چلنے والی ٹاٹاگاڑیوں کی من مانیاں

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/10مارچ: بمنہ ، خمانی چوک سپدن کے روٹ پر ایس آر ٹی سی اور سومو سروس چلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے لوگوںنے کہا ہے کہ اس روٹ پر چلنے والی 407ٹاٹا گاڑیوںنے قبضہ کرلیا ہے جو لالچوک سے دو اڈھائی گھنٹے سے بھی زائدہ کا عرصہ لگاتے ہیں ۔ لوگوںنے کہا کہ پہلے اس روٹ پر ایس آر ٹی سی گاڑیاں چلتی تھیں جن سے لوگوںکو کافی راحت ملتی تھی تاہم ان گاڑیوں کے بند ہونے کی وجہ سے روٹ پرچلنے والی گاڑی ڈرائیوروں کی من مانیاں بڑھ گئی ہیں۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق بمنہ ، خمانی چوک سپدن بڈگام روٹ پر مقامی لوگوں نے اس روٹ پر چلنے والی ٹا ٹا 407گاڑیوں کے ڈرائیور وں پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ لوگ اپنی من مانیاں کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ لالچوک جہانگیر چوک سے براہ راستہ بمنہ ،خمانی چوک ، سپدن بڈگام جو کہ محض 15کلو میٹر کا سفر ہے اس پر ٹاٹا گاڑیاں دو سے اڈھائی گھنٹے کا وقت لگادیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس روٹ پر اگرچہ پہلے ایس آر ٹی سی گاڑیاں چلائی جاتی تھیں تاہم ان گاڑیوں کوبند کرنے کے بعد روٹ پر چلنے والی ٹاٹا گاڑیوں کے ڈرائیور اپنی من مانیاں کررہے ہیں ۔ مسافروں کی جانب سے اگر انہیں کہا جاتا ہے کہ تھوڑی جلدی کریں تو جواب میں کہتے ہیں کہ جلدی کیلئے نجی گاڑی یا آٹو کا استعمال کرو ، مقامی لوگوںنے اس صورتحال کے حوالے سے اے آر ٹو او بڈگام کی عدم توجہی کی وجہ سے کہا ہے کہ موصوف صرف اپنے دفتر میں بیٹھ کر باہری دنیا دسے بے خبر ہیں اور پیسے اینٹھنے میں ہی دلچسپی رکھتے ہیںجبکہ ضلع میں ٹرانسپورٹروں کی جانب سے کیا من مانیاں کی جارہی ہیں اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا جارہا ہے ۔ لوگوںنے مذکورہ روٹ پر ایس آر ٹی سی اور سومو سروس چالو کرنے کا زور دار مطالبہ کرتے ہوئے ٹرانسپورٹ سیکریٹری آر آر بھٹناگر اور ٹرانسپورٹ کمشنر اصغر سامون سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرکے مذکورہ روٹ پر ایس آر ٹی سی گاڑیاں دوبارہ چلانے کیلئے اقدامات اُٹھائیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے