جموں :جموں میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران قانون ساز ایوان اسمبلی میں وادی میں بجلی بحران پر اپوزیشن نے سرکار کو گھیرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جان بوجھ کر اہلیان کشمیر کو مشکلات ومسائل سے دوچار کیا جارہا ہے ،جس دوران اپوزیشن ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ بھی کیا ۔اس دوران اپوزیشن ممبران نے ہیرا نگر کٹھوعہ میں 8سالہ معصوم بچی کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاج کررہے مظاہرین پر طاقت کا استعمال کرنے پر احتجاج کیا جبکہ نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی ہوم شالی بُگ عبدالمجید لارمی نے سوالیہ انداز میں کہا ’جنگجو ﺅں کے اہلخانہ اور ہمسایوں کا کیا قصور ہے ،اُنہیں کیو ں حراساں کیا جارہا ہے ؟۔‘
تعمیل ارشاد کے نامہ نگار کے مطابق پیر کے روز جونہی صبح دس بجے جاری بجٹ جلاس کی کارروائی شروع ہوئی،تو اپوزیشن ممبران نے ریاست خاص طور پروادی کشمیر میں بجلی بحران کا معاملہ اٹھایا۔ نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر نے الزام عائد کیا کہ نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ ایوان کو یوں ہی لے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا ’حکومت کشمیریوں کو جان بوجھ کر مشکلات سے دوچار کر رہی ہے ‘۔
علی محمد ساگر نے کہا ’آپ اپنے وزیر بجلی کے تئیں نرمی برت رہے ہو ،جو ناکام ہوچکے ہیں ۔علی محمد ساگر نے ایوان سے واک آﺅٹ کرتے ہوئے کہا ’آپ اپنے بجلی وزیر کو بچا رہے ہیں ‘۔ سرینگر میں ریسونگ اسٹیشن کی تعمیر میں تاخیر پر بجلی وزیر کی جانب سے دئے گئے جواب سے نامطمئن ہوئے اور علی محمد ساگر ’آپ جان بوجھ کر کشمیریوں کو مشکلات سے دو چار کررہے ہیں ‘۔
انہوں نے ریاستی اسمبلی کے اسپیکر کویندر پر بھی الزام عائد کیا کہ آپ نامعلوم طاقتوں سے ہدایت لےتے ہیں ،آپ آپوزیشن کی آواز کو خاموش کررہے ہیں ۔نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ پاﺅ ر پروجیکٹوں کی واپسی اور دیگر معاملات پر سوالات کے جوابات دے رہے ہیں ۔
علی محمد ساگر کے بعداین سی کے ممبر اسمبلی الطاف کلو ،کانگریس کے ممبر اسمبلی عثمان مجید اور کانگریس کے ہی ممبر اسمبلی وقار رسول نے بھی ایوان سے واک آﺅٹ کیا ۔اس دوران ایوان اسمبلی میں کٹھوعہ میں آٹھ سالہ بچی کے بہیمانہ قتل کے خلاف احتجاج کررہے گجر مظاہرین پر طاقت کے بے تحاشا استعمال کا معاملہ بھی زیر بحث آیا ،جس دوران یہاں ہنگامہ آرائی اور شورشرابہ کے باعث کارروائی میں خلل بھی پڑا ۔
آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ بانو کے بہیمانہ قتل کے خلاف ہیرا نگر کٹھوعہ میں احتجاج کررہے گوجر طبقے کے مظاہرین پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج کرنے کا معاملہ ایوان اسمبلی میں اُس گونج اٹھا جب اپوزیشن ممبران نے اس پر احتجاج کیا ۔
کانگریس کے ممبر اسمبلی جی ایم سروری نے پولیس کی جانب سے کٹھوعہ میں مظاہرین پر طاقت کا استعمال کرنے پر پولیس کو ہدف تنقید بنایا ۔انہوں نے کہا ’پولیس کارروائی میں کئی افراد مضروب ہوئے ،یہ صحیح نہیں ہے ‘۔
یاد رہے کہ 17جنوری کو ہیرا نگر کے مضافاتی گاﺅں میں آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ بانو کی نعش پُراسرار طور پر برآمد ہوئی تھی ،رپورٹس کے مطابق معصوم بچی 10جنوری سے لاپتہ تھی ۔بتایا جاتا ہے کہ معصوم بچی کا اغوا کیا گیا اور بعد اُس کا قتل کیا گیا ۔پولیس نے معاملے کی نسبت ایک کمسن لڑے کو گرفتار کیا ہے جبکہ واقعے کی مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کئے گئے ۔
ادھر ممبر اسمبلی ہوم شالی بُگ نے جنگجوﺅں کے اہلخانہ اور پڑوسیوں کو حراساں کرنے کا معاملہ ایوان اسمبلی میں اٹھایا ۔این سی ممبر اسمبلی عبدالمجید لارمی نے بتایا کہ حکومت وضا حت کرے کہ کیو نکر جنگجوﺅں کے اہلخانہ اور پڑوسیوں کو حراساں کیا جارہا ہے ؟
ممبر اسمبلی عبدالمجید لارمی نے ریڈ ونی کولگام میں فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعے پر حکومت سے وضاحت چاہتے تھے ۔ انہوں نے کہا’جنگجوﺅں کے اہلخانہ کا قصور کیا ہے؟،اُنکے اہلخانہ اور پڑوسیوں کو کیوں حراساں کیا جارہا ہے ؟فورسز نے املاک اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے ۔ممبر اسمبلی کا کہناتھا کہ فورسز نے30لاکھ روپے کی املاک کو نقصان پہنچایا،ہر روز ایسا کیوں ہورہا ہے ؟۔
ممبر اسمبلی نے بتایا کہ حکومت بتائے کہ جنگجوﺅں کے اہلخانہ اور رشتہ داروں کو کیوں حراساں کیا جارہا ہے ،اگر کوئی جنگجو ہے ،تو اُسکے اہلخانہ اور رشتہ داروں کا کیا قصور یاجرم ہے ‘۔

