ایون فیلڈ ریفرنس:نواز شریف کو 10 اور مریم نواز کو 7سال قید کی سزا

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر:٦،جولائی :/ پاکستانی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق پاکستانی وزیر اعظم میاں نواز شریف کو10 سال جب کہ اُنکی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال قید کی سزا سنادی ہے۔کے این این مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنایا۔ نواز شریف اور مریم نواز لندن جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر مانسہرہ میں موجودگی کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے۔ فیصلہ سنائے جانے کے دوران میڈیا نمائندوں اور صحافیوں کو کمرہ عدالت میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔ایون فیلڈ ریفرنس کا تحریری فیصلہ 100صفحات پر مشتمل ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو مجرم قرار دیا ہے۔ عدالت نے نواز شریف کو10 سال قید بامشقت اور 80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانہ ، مریم نواز کو7 سال قید اور20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 9 ماہ 20 دن تک ریفرنس کی سماعت کی اور3 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا۔ اس دوران مجموعی طور پر 18 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے۔عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے قبل عدالت نے اسے موخر کرنے کے لیے نواز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست مسترد کردی تھی۔فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر عدالت کے باہر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ احتساب عدالت جانے والے تمام راستے عام ٹریفک کے لیے بند کردیئے گئے تھے۔ایون فیلڈ ریفرنس شریف خاندان کے لندن میں موجود فلیٹس سے متعلق ہے۔لندن کے پوش علاقے’مے فیئر‘میں ارب پتی افراد کے گھر ہیں، اس علاقے میں واقع ایون فیلڈ فلیٹس نواز شریف کے بچوں کے نام ہیں۔ ملک کے سیاسی منظر نامے میں اس جائیداد کی گونج نوے کی دہائی سے سنی جارہی ہے لیکن نواز شریف اور ان کا خاندان اس کی مسلسل تردید کرتا رہا۔ 2016 میں پاناما لیکس کے بعد نواز شریف کے خاندان سمیت ہزاروں لوگوں کی آف شور کمپنیوں کی تفصیلات سامنے آئیں، جس کے بعد معاملہ احتجاج کے بعد سپریم کورٹ میں گیا۔ جولائی 2017 میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا جس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا۔8 ستمبر 2017 کو نیب نے سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف، ان کے تینوں بچوں اور داماد کے خلاف عبوری ریفرنس دائر کیا۔19 اکتوبر 2017 کو مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر براہ راست جب کہ نواز شریف پر ان کے نمائندے ظافر خان کے ذریعے فردِ جرم عائد کی گئی۔ نیب نے مزید شواہد ملنے پر 22 جنوری2018 کو اسی معاملے میں ضمنی ریفرنس دائر کیا۔نواز شریف پہلی بار 26 ستمبر2017 جب کہ مریم نواز 9 اکتوبر کو عدالت کے روبرو پیش ہوئیں۔ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری ہونے کے باعث ایئرپورٹ سے گرفتار کر کے عدالت پیش کیا گیا۔ عدالت نے26 اکتوبر کو مسلسل عدم حاضری کی بنا پر نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔3 نومبر کو پہلی بار نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر اکٹھے عدالت میں پیش ہوئے۔8 نومبر کو پیشی کے موقع پر نواز شریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔10 جون کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نیاحتساب عدالت کی جانب سے شریف خاندان کے خلاف ٹرائل مکمل کرنے کی مدت سماعت میں تیسری مرتبہ توسیع کی درخواست پر سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف زیرسماعت تینوں ریفرنسز کا ایک ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا۔11 جون2018 کو حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ ہو گئے جس کے بعد ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے وکالت نامہ جمع کرایا۔ 19 جون کو خواجہ حارث احتساب عدالت پہنچے اور دستبرداری کی درخواست واپس لے لی۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 9 ماہ20 دن تک ریفرنس کی سماعت کی اور3 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا۔ اس دوران مجموعی طور پر 18 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے کے این این

Share This Article