سرینگر: ’سترویں بھارتی آرمی ڈے ‘ کے موقعے پر لائن آف کنٹرول پر ہند پاک کے درمیان شدید آتشی گولہ باری کا تبادلہ ہوا ۔پاکستانی فوج کا الزام ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جند روٹ کوٹلی سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے 4اہلکار ازجان ہوگئے۔تاہم بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ پونچھ کے مینڈھر سیکٹر میںپاکستانی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں پاکستانی فوج کے 7اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔
تفصیلات کے مطابق حد متارکہ پر ایک مرتبہ پھر جنگ کا سماں پیدا ہو گیا ہے ،کیو نکہ ا یک طرف جہاں اوڑی سیکٹر میں در اندازی کی کوشش کو ناکام بنانے کا دعویٰ پیر کی پولیس اور فوج نے مشترکہ طور پر کیا جبکہ در اندازی مخالف میں آپریشن میں 5فدائین جنگجو مارے گئے ،وہیں دوسری جانب پونچھ میں مینڈھر سیکٹر میں ہند پاک افواج کے درمیان خونین آتشی گولہ باری میں 4پاکستانی فوجی اہلکار ازجان ہوئے ۔
پاکستانی فوج کا الزام ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جند روٹ کوٹلی سیکٹر میں بھارتی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے 4اہلکار ازجان ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے جوان لائن کمیونیکیشن کی مرمت کے کام میں مصروف تھے، جن پر بھارتی سیکیورٹی فورسز نے فائرنگ کردی۔آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ پاک فوج نے بھارتی اشتعال انگیزی کا جواب دیا اور فائرنگ کے نتیجے میں 3 بھارتی فوجی ازجان ہوئے جبکہ متعدد اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ادھر بھارتی فوج کا دعویٰ ہے کہ پونچھ کے مینڈھر سیکٹر میںپاکستانی فوج کی جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں پاکستانی فوج کے 7اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔جموں میں مقیم دفاعی ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی فوج کے سات اہلکار اُس وقت ہلاک اور چار دیگر زخمی ہوئے جب انہوں نے مینڈھر سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ،جس کا بھارتی فوج نے جواب دیا ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے دہری دبسی سیکٹر میں بھارت کی اگلی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے پیر کی صبح 10بجکر15منٹ پر فائرنگ کی اور ماٹر گولے داغے ،جس کا بھاری فوج نے معقول جواب دیا ۔انہوں نے کہا کہ فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں پاکستانی فوج کو جانی نقصان سامنا کرنا پڑا ۔
دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ اور آتشی گولہ بھاری کا تبادلہ ایسے میں دیکھنے کو ملا جب جب بھارتی فوج اپنا سترواں آرمی ڈے منارہی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق آرمی ڈے کے اس موقع پر پورا ملک بھارتی آرمی کے جزبے کو سلام کرتے ہوئے مبارک باد پیش کر رہا ہے۔
اس موقع پر بھارت کی دارالحکومت دہلی میں پریڈ کا انعقاد کیا گیا اور آرمی چیف جنرل بپن راوت نے پریڈ کے دوران سلامی لی۔صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے فوج کو مبارک باد دیتے ہوئے ٹویٹ میں لکھا ”آرمی ڈے کے موقع پر سبھی فوجی بھائی بہنوں، بہادروں، وردی والوں اور ان کے اہل خانہ کو مبارک باد۔ آپ ہمارے ملک کی شان اور ہماری آزادی کے محافظ ہیں“۔
انہوں نے مزید لکھا ”ہر بھارتی شہری چین کی نیند سو سکتا ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ آپ ہمیشہ الرٹ ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ”آرمی ڈے کے موقع پر میں جوانوں اور ان کے خاندانوں کو مبارک باد دیتا ہوں، جو ملک کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار ہیں“۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل 9 جنوری کو آرمی ڈے کی پریڈ ریہرسل کے دوران ہیلی کاپٹر سے رسی کے ذریعہ اترتے وقت تین فوجی جوان زخمی ہو گئے تھے۔
دونوں ممالک میں ان دنوں کافی کشیدگی پائی جارہی ہے جبکہ برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان الفاظی جنگ جاری ہے ۔پاکستانی فوج کے ادارے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہے تاہم وہ ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا’چیف آف آرمی سٹاف ایک انتہائی اہم تقرری ہوتی ہے اور فور سٹار وہ رینک ہے جس میں تمام عمر کا تجربہ اور پختگی شامل ہوتی ہے، لہٰذا اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ بیان اتنے اہم اور ذمہ دار عہدے والے افسر کو زیب نہیں دیتا ہے۔‘
ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا’انڈیا ہمارا عزم آزمانا چاہتا ہے تو آزما لے لیکن اس کا نتیجہ وہ خود دیکھے گا۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت مشرق کی جانب سے آنے والے خطرات کے لیے ہے، جبکہ پاکستان کی جوہری صلاحیت حملے کے لیے نہیں بلکہ دفاع کے لیے ہے۔‘ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستان کو جوہری دھوکا کہنے کے انڈین آرمی چیف کے بیان کو بچکانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک ذمہ دار افسر کی جانب سے ایسا غیر ذمہ دارانہ بیان انتہائی نامناسب ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر حکومت نے حکم دیا تو انڈین آرمی سرحد پار کر کے پاکستان میں آپریشن کرنے سے نہیں ہچکچائے گی۔پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈین آرمی چیف کا کہنا تھا’پاکستان کی جوہری صلاحیت ایک فریب ہے، اگر ہمیں واقعی پاکستانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور ہمیں یہ ٹاسک دیا گیا تو ہمیں یہ نہیں کہیں گے کہ چونکہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار ہیں اس لیے ہم سرحد پار نہیں کر سکتے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا ’اگر انڈیا روایتی طریقوں سے پاکستان پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتا تو اب تک ایسا کرچکا ہوتا، انڈیا کو جو چیز روک رہی ہے وہ ہماری قابل بھروسہ جوہری صلاحیت ہی ہے۔‘میجر جنرل آصف غفور نے کہا ’ہم ایک پیشہ ورانہ آرمی، ذمہ دار جوہری ریاست اور بیدار قوم ہیں، جو کسی فریب کا شکار نہیں ہے۔‘
دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے انڈین آرمی چیف کے بیان کو جوہری تصادم کو دعوت دینے کے برابر قرار دے دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا ’انڈین آرمی چیف نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دیا جو ان کے عہدے کو زیب نہیں دیتا، تاہم اگر انڈیا کی خواہش ہے تو ہمارے عزم کو آزمالے، انشاءاللہ بھارتی جنرل کا شک دور کر دیا جائے گا۔‘
خیال رہے کہ ایل او سی پر جنگ بندی کے لیے2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود دونوں ممالک کی افواج کے درمیان آئے روز فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوتا ہے ۔

