سری نگر:٣،جولائی / آنگن واڑی ورکروں و ہیلپروں،آشا ورکروں،سی پی ڈبلیوز اور مڈ ڈے میل درختوں کے جائز مطالبات فوری طور پر پورا کرنے کی ضرورت دیتے ہوئے سی پی آئی ایم کے ریاستی صدر و ممبر اسمبلی کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہاکہ حکام کی سوتیلے رویہ نے ان ورکروں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔کے این این کو موسولہ بیان کے مطابق ان یونینوں کے یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے تاریگامی نے کہاکہ دہلی اور ہریانہ میں آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں کو بالترتیب دس ہزار اور پانچ ہزار روپے ماہانہ مشاہرہ دیا جارہاہے جبکہ جموں و کشمیر میں 1975 سے لیکر اب تک انہیں بالترتیب 3600اور 1800روپے ہی دیئے جارہے ہیں جو سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال بجٹ میں ان ورکروں کے مشاہرہ میں پانچ سو روپے کا اضافہ کرنے کا اعلان ہوا تاہم آج تک اس کا حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔آشا ورکروں کی دیہی علاقوں میں طبی خدمات کو سراہتے ہوئے تاریگامی نے کہاکہ انہیں معقول ماہانہ مشاہرہ ملنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے آشا ورکروں کو فراموش کردیا ہے جن کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں اور انہیں ماہانہ پندرہ ہزار مشاہرہ دینے کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کی سکیموں سے بھی فائدہ دیا جائے۔انہوں نے حکومت کو یاد دلایا کہ سی پی ڈبلیوز سکولوں میں بیس بیس برس سے کام کررہے ہیں جن کو ماہانہ مشاہرہ پچاس سے دو ہزار تک ملتاہے جو کم سے کم اجرت ایکٹ کی خلاف ورزی ہے اور ان کے ساتھ بھی انصاف کیا جائے۔انہو ں نے مڈ ڈے میل ورکروں کے مسائل اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ ان ورکروں کو نہ ہی کم سے کم اجرت ایکٹ کے تحت مشاہرہ دیا جارہاہے اور نہ ہی انہیں سماجی تحفظ حاصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان ورکروں کو ماہانہ صرف ایک ہزار روپے ملتے ہیں اور وہ بھی کئی کئی ماہ کیبعد۔ تاریگامی نے کہاکہ مڈ ڈے میل ورکروں کو معقول مشاہرہ دیا جائے اور ان کے جائز مطالبات فوری طور پر پورے کئے جائیں۔

