افضل گورو کے بیٹے غالب گورو کی بارہویں جماعت کے امتحانات میں نمایاں کارکردگی

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سری نگر:(یو ا ین آئی) پارلیمنٹ پر حملہ کے مبینہ مجرم محمد افضل گورو جنہیں 9 فروری 2013 کو دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی، کے بیٹے غالب افضل گورو نے جموں وکشمیر بورڈ آف اسکول ایجویشن (بوس) کے زیر اہتمام منعقدہ بارہویں جماعت کے امتحانات میں نمایاں نمبرات کے ساتھ کامیابی حاصل کرلی ہے۔

انہوں نے سال 2016 میں بھی میٹرک کے امتحانات میں 500 میں سے 474 نمبرات حاصل کرکے 19 ویں پوزیشن حاصل کی تھی۔ وادی کشمیر میں بارہویں جماعت کے امتحانات کے نتائج کا اعلان جمعرات کی صبح کیا گیاجس میں کامیاب امیدواروں کا تناسب 61 اعشاریہ 44 رہا ہے۔

بارہویں جماعت کے امتحانات کے نتائج سامنے آنے کے بعد جب یہ خبر پھیل گئی کہ افضل گورو کے بیٹے غالب گورو نے 500 میں سے441 نمبرات حاصل کئے ہیں تو اہلیان وادی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس خاص طور پر فیس بک پر زبردست خوشی اور مسرت کا اظہار کیا اور ان کی طویل و کامیاب زندگی کے لئے دعائیں کیں۔ سائنس کا طالب علم غالب گورو ڈاکٹر بننا چاہتا ہے۔ وہ ڈسٹنکشن سے پاس ہوا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق غالب گورو کی امتحان میں نمایاں کارکردگی پر اُن کے آبائی علاقہ سوپور کے جاگیر میں جشن کا ماحول ہے۔ گذشتہ روز یعنی 9 جنوری 2018 ءکو جب وادی میں میٹرک (دسویں) کے امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو اس میں 2016 ءکی ایجی ٹیشن کے دوران سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں پیلٹ گن کے استعمال سے نابینا ہونے والی انشاءمشتاق نے کامیابی حاصل کی۔

انشاءکو اس وقت پیلٹ بندوق سے مکمل طور پر نابینا کیا گیا تھا جب وہ اپنے مکان کی کھڑی سے احتجاجی مظاہروں کو دیکھ رہی تھی۔ دسمبر 2011 ءمیں پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے مبینہ مجرم محمد افضل گورو کو 9 فروری 2013 ءکو دلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی اور وہیں پر دفن کیا گیا ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے