سرینگر/۱۳جنوری/ہلمت پورہ کپوارہ میں اُس وقت سراسمیگی پھیل گئی جب ایک ایس پی او کے 19سالہ بیٹے کواس کے گھر کے نزدیکی جنگل میں ایک درخت سے پھانسی پر لٹکتا ہوا پایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان کا موبائیل فون برآمد کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔
کپوارہ سے کے ا یم این نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ ضلع کے ہلمت پورہ علاقے میں بدھ کی صبح جب مقامی لوگوں نے ایک نوجوان کی لاش پر اسرار طور پھانسی پرلٹکتی ہوئی دیکھی تو علاقے میں سنسنی اور خوف و ہراس پھیل گیا۔مقامی لوگوں نے اسے دیکھتے ہی اس کی شناخت19سالہ آصف احمد پیر ولد عبدالاحد پیر ساکن آرم باغ ہلمت پورہ کے بطور کی۔
اطلاع ملتے ہی پولیس کی ایک ٹیم جائے واردات پر پہنچ گئی اور آصف کی لاش کو اپنی تحویل میں لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان اپنے گھر سے تھوڑی ہی دور آرام باغ ووئین جنگل میں ایک درخت کے ساتھ مضبوط کپڑے کے سہارے پھانسی پرمردہ لٹکا ہوا تھا۔لاش کا پوسٹ مارٹم سب ڈسٹرکٹ اسپتال کپوارہ میں کرایا گیا اور قانونی و طبی لوازمات کی ادائیگی کے بعد جب لاش ورثاءکے سپرد کی گئی تو علاقے میں صف ماتم بچھ گئی۔معلوم ہوا ہے کہ آصف احمد کا والد پولیس میں بطور ایس پی او کام کرتا ہے اور کپوارہ میں تعینات ہے۔
آصف خود گھریلو کام میں مصروف رہتا تھا۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ مذکورہ نوجوان کن حالات میں پھانسی پر لٹک گیا؟تاہم پولیس نے اس سلسلے میں معاملہ درج کرکے چھان بین شروع کردی ہے۔پولیس اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے کہ آیا یہ خود کشی کا واقعہ ہے یا مذکورہ نوجوان کو پھانسی دیکر قتل کردیا گیا ہے؟پولیس کے ایک آفیسر نے کے ایم ا ین کو بتایا کہ اس بارے میں پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی کوئی حتمی رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ایس ایس پی کپوارہ شمشیر حسین نے بتایا کہ آصف کا موبائیل فون برآمد کرلیا گیا ہے جس کی تفاصیل کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔اس واقعہ سے علاقے میں سراسمیگی کا ماحول ہے اور لوگ طرح طرح کی قیاس آرائیاںکررہے ہیں۔
