سرینگر : اس بات کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ جی ایس ٹی سے آمدنی گھٹی ہے جبکہ گھٹتی آمدنی سے پریشان حکومت ِہندنے 50ہزار کروڑ کا قرض لینے کا اعلان کیا۔ مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق دہلی کے ایک نیوز پوٹل نے سرکاری رپور ٹ حوالہ دےتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گھٹتی آمدنی سے پریشان مرکزی حکومت نے50 ہزار کروڑ کا قرض لینے کا اعلان کیا۔
رپورٹ کے مطابق ماہ ِ نومبر میں 80 ہزار8سو کروڑ کی وصولی ہوئی تھی، جو گزشتہ4 مہینوں میں سب سے کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماہرین اقتصادیات کے کہنا ہے کہ قرض لینے کی وجہ سے نقصان3.5 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ نقصان کا ہدف3.2 فیصد ہی رکھا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت 50 ہزار کروڑکا قرض مقرہ مدت والی سکیورٹی کے ذریعہ لے رہی ہے۔تاہم ماہرین ِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ قرض کی وجہ سے مہنگائی بڑھنے کے خدشات بہت زیادہ ہیں۔ ادھر وزارت خزانہ کا کہنا ہے رواں برس 26 دسمبر تک حکومت نے 3.81 لاکھ کروڑ کا قرض لیا ہے اور حکومت نے سال بھر50 ہزار کروڑ کا قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت میں جولائی2017 میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد سے ہی حکومت کی اقتصادی پالیسی پر مسلسل سوال اٹھ رہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارتمیں آزادی کے70 سال میں پہلی مرتبہ وسیع پیمانے پر متعارف کروائی جانے والی ٹیکس اصلاحات ماہ ِجولائی سے لاگو کر دی گئی ہیں۔
نئے متعارف کروائے گئے سروسز اینڈ سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی ) کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کی وجہ سے ملک میں موجود ٹیکس نظام میں جہاں بہتری لائی جا سکے گی وہاں انڈین مارکیٹ میں بھی اس ٹیکس نظام سے یکسانیت آئے گی۔نئی ٹیکس اصلاحات لاگو کرنے کے لیے دہلی میں واقع پارلیمنٹ ہاو¿س میں ایک خاص تقریب کا انعقاد کیا تھا گیا جس میں شب 12 بجے ایک ایپ کے ذریعے اس کا اطلاق کیا گیاتھا۔تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خزانہ ارون جیٹلی، صدر پرنب مکھرجی اور نائب صدر حامد انصاری اور سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوی گوڑا موجود تھے۔
وزیر اعظم مودی نے اس موقع پر کہا تھاکہ’ آج اس آدھی رات کے وقت ہم سب مل کر ملک کے آگے بڑھنے کی راہ یقینی بنانے جا رہے ہیں۔ ملک ایک نئے نظام کی طرف چل پڑے گا۔ سوا سو کروڑ شہری اس تاریخی واقعے کے گواہ ہیں۔‘انھوں نے کہا تھاکہ جی ایس ٹی کسی ایک حکومت کی کامیابی نہیں ہے بلکہ سب کی مشترکہ میراث ہے اور سب کے مشترکہ کوشش کی تکمیل ہے، یہ ایک طویل سوچ کے عمل کا نتیجہ ہے۔‘
نریندر مودی نے اسے اقتصادی انضمام کے لیے کی گئی پہل قرار دیا ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس سے الگ الگ ریاستوں میں اشیا پر لگنے والا محصول ایک ہی ہو جائے گا اور اس کے بارے میں لوگوں میں جو کنفیوڑن رہتا ہے وہ نہیں رہے گا اور اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
مودی نے کہا تھاکہ’کالے دھن اور بدعنوانی کو روکنے میں جی ایس ٹی کی مدد کرے گا۔ یہ ایمانداری سے کاروبار کرنے کے لیے حوصلہ افزائی میں مدد کرے گی۔‘اس سے پہلے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا تھاکہ’آج کے بعد نیا بھارت ۔ایک محصول ۔ ایک ملک اور ایک بازار ہوگا۔ ایک نیا مستقبل ہوگا اور ملک کے لیے جی ایس ٹی ایک بڑی کامیابی ہے۔‘





